ہندوستان کی حفاظت کیلئے ہندوؤں سے متحد ہونے کی اپیل: بھاگوت

   

بردھمان: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو ہندو برادری سے ملک کی حفاظت کے لیے متحد ہونے اور دنیا کو امن اور خوشحالی کا راستہ دکھانے کی اپیل کی۔ بھاگوت نے یہاں پربا بردھمان ضلع کے ایس اے آئی کامپلکس میں آر ایس ایس کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو سکندر کے زمانے سے ہی نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اب تک کوئی بیرونی طاقت یہاں تک کہ انگریز بھی، ہندو برادری کے تنوع میں اتحاد کی وجہ سے مستقل طور پر آباد نہیں ہوسکے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آر ایس ایس میں شامل ہوں اور تنظیم کو اندر سے محسوس کریں کیونکہ یہاں کسی کیلئے کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی داخلے کیلئے کوئی فیس ہے اور اگر وہ محسوس کریں کہ وہ اس میں فٹ نہیں بیٹھتے تو ہر ایک اپنے طور پر چھوڑنے کیلئے آزاد ہے ۔ بھاگوت نے اجتماع جس میں ماترشکتی ونگ کی بہت سی خواتین نے حصہ لیا سے کہاکہ اگر آپ آر ایس ایس میں آتے ہیں تو آپ کو ہندوستان کی بہتری کیلئے بھی اپنا حصہادا کرنا چاہیے اور کسی چیز کی واپسی کی امید نہیں کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے کیونکہ اس کی 70,000 شاخیں ہیں۔ سنگھ کے سربراہ نے ہندو سماج کے اندر اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھے وقت میں بھی چیلنج آتے ہیں۔انہوں نے ہندو سماج کو متحد اور منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسائل ہر جگہ موجود ہیں ایک ساتھ مل کر رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ ہم ہندوؤں کو متحد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہندوستان کے حقیقی وارث ہندو ہیں۔آر ایس ایس کے سربراہ نے پاکستان کا نام لیے بغیر 1947 میں تقسیم ہند کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اپنی فطرت ہے ۔ وہ (معاشرے کا ایک طبقہ) ان تمام خصوصیات کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے ، اس لیے انہوں نے ایک الگ ملک بنا لیا۔