ہندو ‘حلال’ چیزیں استعمال نہ کریں، سنگھ پریوار کا مشورہ

   

مذہبی منافرت کو ختم کرنے 60زائد دانشوروں کا چیف منسٹر کو مکتوب
بنگلورو: کرناٹک میں حجاب اور مندروں کے اطراف میں مسلم تاجروں کو دکانیں نہیں دینے کے تنازعہ کے بعد اب حلال چیزوں کا تنازعہ پیدا کردیا گیا ہے۔ آر ایس ایس سے وابستہ ہندو جن جاگرتی سمیتی نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ اگادی یا سال نو تہوار کے موقع پر حلال گوشت نہ خریدیں۔ اگادی کا تہوار 2اپریل کو منایا گیا۔ اس موقع پر ہندو بڑی مقدار میں بالخصوص بکرے کا گوشت استعمال کرتے ہیں، جو ریاست میں عام طور پر مسلمانوں کی دکانوں پر دستیاب ہوتا ہے۔ہندو جن جاگرتی سمیتی کے ریاستی ترجمان موہن گوڑا نے مسلمانوں کے خلا ف اس مہم کو ہوا دیتے ہوئے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ حلال گوشت فروخت کرنے والے مسلمانوں کی دکانوں سے خریداری نہ کریں۔گوڑا نے متنازعہ بیان میں کہا کہ تصدیق شدہ حلا ل مصنوعات کی خریداری کا مطلب ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت کرنا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلی باسوراج بومئی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اس پر سنگین اعتراضات کیے گئے ہیں۔ میں اس کو دیکھوں گا۔ ہم ایسی کسی چیز پر توجہ نہیں دیں گے جو قابل توجہ نہ ہو۔ خیال رہے کہ کرناٹک میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔کرناٹک کے سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمارا سوامی نے ہندو نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سماج کو تباہ ہونے کی اجازت نہ دیں۔ میں ہاتھ جوڑ کر سب سے اپیل کرتا ہوں کہ ریاست کو تباہ نہ کریں۔”انہوں نے سنگھ پریوارسے سوال کیا، “آپ ہندوؤں کی تو بات کررہے ہیں لیکن کیا کسی دلت کو کسی مندر میں پجاری بننے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہ سارا کھیل اگلے سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے مدنظر کررہی ہے۔ دریں اثنا ریاست کے 60 سے زائد دانشوروں نے وزیر اعلی بومئی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر مذہبی منافرت پر روک لگانے کی اپیل کی ہے۔