Sunday , November 29 2020

یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ کا کشمیر دور ہ کرانے کے لئے ماڈی شرما نے پیسے لئے ہیں۔ پرائم ٹائم میں راویش کمار کا سوال۔ ویڈیو

حکومت ہند نے 5اگست2019کے روز صدر جمہوریہ کے احکامات کے تحت پارلیمنٹ میں جموں اور کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی کے لئے ائین کی دفعہ 370کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کو دو مرکز کے زیراقتدار علاقے یعنی یونین ٹرٹیریز ایکل جموں اور کشمیردوسرا لداخ میں تبدیل کردیا ہے۔

یکم نومبر کے روز عملی طور پر ریاست کی تقسیم اور نئے گورنرس کا بھی تقرر عمل میں آگیا۔ پاکستان حکومت ہند کے اس فیصلے سے ناراض ہے اور وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے‘

کئی ممالک سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خا ن نے ملاقات کی اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ کشمیری عوام کے ساتھ حکومت ہند ناانصافی کررہی ہے

او ریہاں تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان نے چلاچلا کر کشمیر کے مسلئے کو اٹھانے کی کوشش کی اور ہر جگہ ہندوستان نے یہی کہہ کہ کشمیر ہندوستان کا ایک داخلی معاملہ ہے۔

مگر یہ داخلی معاملہ اس وقت تذتذب کا شکار ہوگیاجب یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ نے کشمیرکادورہ کیا۔

اس دورے پر مختلف گوشوں سے تنقید اور سوالات کئے جارہے ہیں۔ غیرملکی اراکین پارلیمنٹ کے کشمیر دورے کے بعد مسلئے کشمیرکو ہندوستان کا داخلی معاملہ قراردینے کے دعوؤں کو سوال کھڑا کئے جارہے ہیں

اور حکومت سے استفسار کیاجارہا ہے کہ آخر کیاوجہہ تھی کہ یوروپی اراکین پارلیمنٹ کو کشمیر کا دورہ کرایاگیاجبکہ ہندوستان کے اراکین پارلیمنٹ کو سری نگر ائیرپورٹ سے ہی واپس لوٹادیاجارہا ہے۔

مذکورہ دورے کے منتظمین پر بھی کئی طرح کے سوال کئے جارہے ہیں اورپوچھا جارہا ہے کہ ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی نامی غیرمنافع بخش این جی او نے کس بناء پر یہ دورے کا انتظام کیا۔

مذکورہ یوکے نژاد این جی او کی سربراہ ماڈی شرماعرف مادھو شرما نے کیا حکومت سے اس دورے کے انتظام کے لئے کچھ پیسے لئے ہیں۔

دراصل اس دورے کا اہتمام ویمن ایکو نومک اور سوشیل تھینک ٹینک(ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی)نے کی ہے جو کو غیر سرکاری قراردیا گیاہے۔

مذکورہ اپو,یشن کانگریس نے سوال کیاہے کہ دورے کرنے والے اور غیرمنافع بخش این جی او کا پس منظر کیاہے۔

اس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے اچانک ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا ہے کہ ”یہ یوروپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ جنھوں نے جموں او رکشمیر کادورہ کیاہے۔اس کی حقیقت پسندی بڑی دلچسپ ہے او ریہ پراسرار این جی او‘ ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی کون چلاتا ہے جس کی مدد سے دور ہ او راس کی میزبانی کی گئی ہے۔

کوئی جانکاری ہے؟؟۔ کوئی اندازہ نہیں یہاں پر۔انڈیاٹوڈے نے حقائق کی جڑتک پہنچانے کاکام کیاہے۔انڈیاٹوڈے کی جانچ میں دستیاب سرکاری ریکارڈس سے اس بات کاپتہ چلا ہے کہ ڈبلیوای ایس ٹی ٹی چھ سال قدیم این جی او ہے۔

مذکورہ غیرمنافع بخش تنظیم کاراجسٹریشن 19ستمبر2013کو سیکشن 4برائے ای یو تھینک ٹینک اینڈ ریسرچ ادارے کے“ زمرے میں ہوا ہے۔

اپنی جانب سے این جی او دعوی کرتی ہے کہ 14ممالک میں اس کی نمائندگی ہے مگر انڈیاٹوڈے کو جانکاری ملی ہے کہ اس بجٹ نہایت کم ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر اپریشن کی انجام دہی کرسکے۔

ای یو کے سرکاری ریکارڈس کے مطابق ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی کو جملہ فنڈس حاصل ہوئے ہیں وہ 24,000یاپھر ایک اندازے کے مطابق کہیں تو 19لاکھ جو پچھلے معاشی سال کے دوران ہیں۔مذکورہ غیرمنافع بخش ادارے کو سالانہ فنڈایک ہی عطیہ دہندگان سے ملتا ہے۔

ای یو ریکارڈس سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ مذکورہ این جی او ایک کارپوریٹ سوشیل ذمہ داری کی سرگرمیاں یوکے نژاد بزنس کمپنی جسکوماڈی گروپ کہاجاتا ہے وہ انجام دیتی ہے۔

راجسٹریشن کے وقت کو جانکاری داخل کی گئی ہے اس کے مطابق ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی کی بڑی فینانسر کے طور پر ماڈی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ریکارڈس میں این جی او کے بانی/ڈائرکٹر کی شناخت بھی اسی نام سے ہوئی ہے ماڈی شرما عرف مدھو شرما۔

مذکورہ ویمن ڈائرکٹر جو خود کو عالمی کاروباری بروکر قراردیتی ہے‘ کا اصرار رہتا ہے کہ غیر منافع بخش سے اورکوئی آمدنی نہیں ہے لہذا ”خرچ کم رکھیں اور بجٹ کا بھی کم رکھا جائے“۔

شرما کی سرکاری پروفائیل بتاتی ہے وہ فی الحال ہندوستان اور ساوتھ افریقے کے علاوہ یوروپ بھر میں کاربارواور حکومتوں میں کام کرتی ہیں۔یوروپین اکنامی اور سوشیل کمیٹی(ای ای ایس سی) کی ویب سائیڈ پر موجودہ ان کی پروفائیل میں لکھا ہے کہ ”وہ ایک کاروباری سفیر برائے ناتہنگم اور کاروباری ماہر برائے ایسٹ میڈلینٹس ہیں“۔

ای یو کے سرکاری ریکاررڈس میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ این جی او کا کوئی بھی رکن یوروپی پارلیمنٹ سے اکریڈیٹ نہیں ہے۔

خواتین کی صنعت کاری میں برسلویس میں مارچ2015کو ڈبلیو ای ایس ٹی ٹی اور یوروپی یونین کمیشن کے نمائندوں کا آخری اجلاس ہے۔

پرائم ٹائم میں روایش کمار کا اس پر مزید خلاصہ ضرور دیکھیں

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT