یو سی سی کو مسلسل ہائی کورٹ میں چیلنج مزید دو درخواستیں دائر

   

نینی تال: اتراکھنڈ میں حال ہی میں نافذ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) قانون کو مسلسل ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ جمعرات کو اس سلسلے میں دو اور درخواستیں دائر کی گئیں۔ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اس معاملے میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کیلئے یکم اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے ۔درخواستیں اوما بھٹ، اتراکھنڈ مہیلا منچ کی کملا پنت، سماج وادی لوک منچ کے منیش کمار کے ساتھ سدھانشو سنوال نے دائر کی ہیں۔ان درخواستوں کی سماعت سینئر جسٹس منوج کمار تیواری اور جسٹس آشیش نیتانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔ دونوں درخواستوں میں یو سی سی کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
مرکزی حکومت کی نمائندگی سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے کی جبکہ عرضی گزاروں کی نمائندگی نامور وکیل ورندا گروور نے کی۔ورندا گروور کی جانب سے کہا گیا کہ یو سی سی میں موجود دفعات غیر آئینی ہیں اور لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہی نہیں، یو سی سی سپریم کورٹ کے پوٹا سوامی فیصلے کے خلاف ہے ۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست لوگوں کی ذاتی معلومات نہیں مانگ سکتی۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیوں میں حکومت اور پولیس کی مداخلت اور ہراساں ہونے کا خدشہ ہے ۔سالیسٹر جنرل نے کہا کہ فی الحال کسی کو ہراساں کرنے یا زبردستی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آخرکار، ڈویژن بنچ نے ان مقدمات کو دیگر درخواستوں کے ساتھ جوڑ دیا اور مزید سماعت کیلئے یکم اپریل کی تاریخ مقرر کی۔ اب چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بنچ تمام درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کرے گا۔