کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری
عوام سے احتیاطی برتنے کی اپیل
نئی دہلی : مانسون نے اتر پردیش، بنگلورو اور مہاراشٹرا سمیت کئی ریاستوں میں تباہی کا عالم پیدا کر رکھا ہے۔ حالانکہ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق مانسون کی معمول کے مطابق واپسی کی تاریخ 25 ستمبر کے آس پاس ہے، لیکن جاتے جاتے اس مانسون نے اپنے تلخ تیور دکھا دئیے ہیں۔ پہلے بنگلورو میں موسلادھار بارش ہوئی، اور پھر آج یوپی میں بارش کی قہرناکیوں کے سبب اب تک 13 افراد کی موت کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔محکمہ موسمیات نے لکھنؤ سے متعلق الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 17 ستمبر تک زوردار بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس الرٹ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے اتر پردیش کی راجدھانی کے لوگوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ شہر کے لوگ پرانی اور مخدوش عمارتوں سے دور رہیں۔ ساتھ ہی بہت ضروری ہونے پر ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے بچنے، کھلے سیور، بجلی کے تار اور کھمبوں سے دور رہنے کا مشورہ بھی عوام کو دیا گیا۔ مہاراشٹرا کی راجدھانی ممبئی کا حال بھی موسلادھار بارش کی سبب بے حال دکھائی دے رہا ہے۔ جمعہ کی صبح ممبئی کے لوگوں کی نیند موسلادھار بارش کے درمیان کھلی۔ بارش کے سبب شہر کے کئی حصوں میں پانی کے ٹھہراؤ کی خبر ہے۔ اندھیری، گورے گاؤں، سانتاکروز، پوئی، کھار جیسے علاقوں میں زوردار بارش ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے مہاراشٹرا کے پالگھر سے متعلق آرینج الرٹ جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ رائے گڑھ اور رتناگری کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔