مرکز سے چیف منسٹر کا مطالبہ ۔ دہلی میںسمویدھان دیوس سے ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔26۔نومبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں ’سمودھان دیوس ‘سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ مردم شماری کے ساتھ ملک میں ذات پات پر مبنی سروے کو یقینی بنائیں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو راہول گاندھی کی قیادت میں پارلیمنٹ اور اس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے جو دہلی کے دورہ پر ہیں آج سمودھان دیوس پر اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ تلنگانہ حکومت سے ذات پات پر مبنی سروے کو 92 فیصد مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس نے آزادی کے بعد پنڈت جواہر لعل نہرو‘ اندرا گاندھی ‘ اور دیگر سرکردہ قائدین کی نگرانی میں ملک میں پہلی مرتبہ سماجی انصاف کیلئے جاگیر داروں کی اراضیات حاصل کرکے کسانوں میں تقسیم کی اور کسان کو عزت دینے کے علاوہ اس کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کرکے سماجی انصاف کے پہلے دور کا آغاز کیا جسے وہ 1.0 تصور کرتے ہیں اس کے بعد کانگریس نے ملک میں اپنے اقتدار کے دوران راجیو گاندھی سے پی وی نرسمہا راؤ کے دورحکومت میں منڈل کمیشن اور دیگر کمیشنوں کی رپورٹس پر عمل کرکے سماجی انصاف کے دوسرے مرحلہ کو مکمل کیا اور محروم طبقات کو تحفظات کے زمرہ میں شامل کرکے انہیں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کئے گئے اور یہ ہندستان میں سماجی انصاف کا 2.0 کا دور رہا اور آج ملک بھر میں سونیا گاندھی ‘ راہول گاندھی ‘مسٹر ملکارجن کھرگے کی قیادت میں ملک میں تمام طبقات کے سروے کے ذریعہ معاشرہ کا ایکسرے کروانے کی بات کر رہے ہیں جو ملک میں سماجی انصاف کے 3.0 دور کا آغاز ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی کے نظریہ کے مطابق حکومت تلنگانہ نے ریاست میں ذات پات پر مبنی سروے کا آغاز کیا اور اس سروے میں جو تفصیلات حاصل کی جار ہی ہیں وہ دراصل ملک میں بسنے والے شہریوں کا جامع میڈیکل چیک اپ ہے اور سروے کی رپورٹ سے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ ملک میں موجود آبادی کو کتنی حصہ داری مل رہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی نے اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں تلنگانہ میں اقتدار ملنے پر ذات پات پر مبنی سروے کا وعدہ کیا تھا اور حکومت تلنگانہ نے اقتدار ملنے کے بعد ریاست میں سروے کی تیاریاں شروع کردی تھیں اور اب تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی سروے جاری ہے جو کہ 92 فیصد مکمل کرلیا گیا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ مردم شماری کے دوران ذات پات کے سروے کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ملک میں موجود تمام طبقات کی حقیقی تعداد کا پتہ چل سکے ۔3