واشنگٹن ۔ 22 اگست (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شب کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران میں وہ کس سے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے بیشتر افراد مارے جا چکے ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ کوئی شخص ایران کے صدر کا منصب سنبھالنا چاہتا ہے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ’’آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین سمجھتے ہیں‘‘ اور واضح کیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے حد خواہش مند ہے اور توقع ظاہر کی کہ ایران سے متعلق کارروائیاں ختم ہوتے ہی توانائی کی قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔ٹرمپ نے مزید کہا: ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے حد خواہش مند ہے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ ہم یہ معاہدہ کرنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے شدید خواہش مند ہے، لیکن وہ اب بھی ’’مناسب معاہدہ‘‘ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ٹرمپ نے جمعہ کی رات ایک خطاب میں کہا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند ہے اور 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق تہران اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ’’آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول‘‘ حاصل ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کی طرف منتقلی کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کے فوجی آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔دوسری جانب واشنگٹن تہران پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں ’’تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں‘‘ قرار دیا گیا ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ وہ ان پابندیوں کی تفصیلات پیر کو بتائیں گے۔ ادھر تہران نے جمعہ کو کہا کہ کسی بھی نئی امریکی دھمکی کا اس کا جواب ’’تباہ کن‘‘ ہوگا۔ٹرمپ اس سے قبل ان تمام ممالک کو اقتصادی نتائج سے خبردار کر چکے ہیں جو ’’کسی بھی قسم کی اہم معاونت‘‘ ایران کو فراہم کریں گے۔
امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے کیے تھے، جن کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنا اور تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہو گئے –