آبپاشی پراجکٹس حوالے کرنے سے شہر میں پانی کی سربراہی متاثر ہوگی

   

کانگریس وعدوں کی تکمیل میں ناکام، بی آر ایس کا مستقبل تابناک رہے گا، ہریش راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) سابق وزیر فینانس ہریش راؤ نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو حوالے کرنے سے حیدرآباد سے ناانصافی ہوگی اور پانی کی سربراہی پر اثر پڑے گا۔ ہریش راؤ نے آج پٹن چیرو اور ایل بی نگر اسمبلی حلقہ جات میں بی آر ایس کارکنوں سے خطاب میںچیف منسٹر ریونت ریڈی کے الزامات کو مسترد کردیا کہ بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کے پراجکٹس کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل کانگریس نے پراجکٹس کو مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کیا جبکہ کے سی آر حکومت نے پراجکٹ کا تحفظ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں کانگریس حکومتوں نے یہ روایت شروع کی تھی۔ جئے رام رمیش اور جئے پال ریڈی نے بل پیش کئے تھے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ بی آر ایس پر الزام تراشی بند کریں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پراجکٹس کی حوالگی سے حیدرآباد کو پانی کی سربراہی کے علاوہ کھمم اور نلگنڈہ کو آبپاشی سہولتوں کیلئے سربراہی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے تلگودیشم میں رہتے ہوئے پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تلنگانہ میں بی آر ایس کا مستقبل روشن رہے گا اور اس بارے میں کارکنوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسمبلی چناؤ میں شکست محض ایک اسپیڈ بریکر ہے۔ انتخابی مہم میں کانگریس کے گمراہ کن پروپگنڈہ کے نتیجہ میں بی آر ایس کو شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ٹھیک ہے اور شکست سے سبق حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس دوبارہ عوام کے درمیان جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ناقابل عمل وعدوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا گیا۔ پنشن اور رعیتو بندھو اسکیمات پر ابھی تک عمل آوری شروع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ انتخابی مہم میں عوام سے برقی بل ادا نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ ہریش راؤ نے سوال کیا کہ کیا کانگریس پارٹی یہ بل ادا کرے گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ انڈیا الائنس اتحاد ٹوٹ چکا ہے اور راہول گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وعدوں پر عمل آوری میں کانگریس سنجیدہ نہیں ہے۔ ریاست میں 6 لاکھ آٹو ڈرائیورس بیروزگار ہوچکے ہیں۔ ریاست میں برقی کٹوتی کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ حوصلہ شکن نہ ہوں۔ اسمبلی چناؤ میں محض1.8 فیصد ووٹ کے فرق سے بی آر ایس کو شکست ہوئی ہے۔1