آر بی آئی نے جی ڈی پی کی شرح ترقی 9.5 سے گھٹاکر 9.2 فیصد کر دی

   

دیسی کھپت میں کمی پوری کرنے کی کوششیں جاری۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جائزہ میٹنگ کے بعد گورنر شکتی کانت کا بیان

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) نے کورونا کی تیسری لہر سے معیشت کے متاثر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی حقیقی شرح نمو کو 9.5 فیصد سے کم کر 9.2 فیصد کر دیا ہے ۔ آربی آئی گورنر شکتی کانت داس نے ان کی قیادت میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی ( ایم پی سی) کی رواں مالی سال کی آج اختتام پزیردو ماہی جائزہ میٹنگ کے بعد کہا ‘‘ گھریلو مانگ کی اہم بنیاد نجی کھپت مسلسل کورونا وباء کی سابقہ سطح کو پانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وہیں بین الاقوامی سطح پراجناس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اورعالمی مالیاتی منڈیوں کا بڑھتا ہوا اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پرسپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑا خطرہ ہے ۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 2021-22 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 9.2 فیصد لگایا گیا ہے ۔ داس نے کہا کہ کورونا وبا کی تیسری لہر کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں کچھ حد تک متاثر ہوئی ہیں۔ مالی سال 21-22 میں 9.2 فیصد کی حقیقی جی ڈی پی نمو معیشت کو وبائسے پہلے کی سطح سے اوپر لے جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اومیکرون کا اثر ہلکا رہا اور جس رفتار سے اس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے ، لیکن اس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں کی رفتار ٹوٹ گئی ہے ۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ معاشی سرگرمیوں کا یہ نقصان مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کے پی ایم آئی، تیار سٹیل کی کھپت اور ٹریکٹروں، دو پہیہ گاڑیوں اور مسافر گاڑیوں کی فروخت سے ظاہر ہوتا ہے ۔ اس سے قبل 8 دسمبر2021 کو اختتام پذیر ایم پی سی میٹنگ نے ربیع کی بوائی میں تیزی آنے ، تہواروں کے موسم سے مانگ بڑھنے ، زراعت اور اس سے جڑی سرگرمیوں میں نئے روزگار پیدا ہونے کے درمیان اومیکرون کے کیسز میں ہورہے اضافے اورعالمی واقعات سے ہندوستان کی معیشت کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
مہنگائی 4.5 فیصد رہنے کی پیش قیاسی
آر بی آئی نے فصلوں کی بہتر پیداوار، سپلائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات اور مانسون اچھا رہنے کی امید پر اگلے مالی سال میں خوردہ مہنگائی 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے ۔ شکتی کانت نے کہاکہ بنیادی افراط زر تسلی بخش دائرے کے اعلی سطح پر برقرار ہے ، تاہم خاص طور پر اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں نرمی سے راحت مل رہی ہے ۔ غذائی اجناس کی پیداوار میں بہتری کا امکان ہے ۔
اور فصلوں کی آمد میں بڑھنے اور سبزیوں کی قیمتوں میں گراوٹ کی امید سے مزید نرمی کی امید بڑھ رہی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے مضبوط سپلائی سائیڈ اور ملکی پیداوار میں اضافے سے دالوں اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں نرمی برقرار رہنے کا امکان ہے ۔