آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی ہدایتکار اسرائیلی حراست سے رہا

   

تل ابیب: اسرائیلی پولیس نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی فلمساز حمدان بلال کو منگل کے روز رہا کر دیا۔ انہیں ایک روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے کے بعد “پتھراؤ” کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔بلال کے ہمراہ آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم نو ادر لینڈ کے لیے کام کرنے والے باسل عدرا نے بلال کی رہائی کے بعد ان کی خون سے داغدار قمیض کی تصویر ایکس پر پوسٹ کی۔بلال نے اے ایف پی ٹی وی کی ایک ویڈیو میں کہا، “آسکر جیتنے کے بعد مجھے اس طرح کے حملوں کا نشانہ بننے کی امید نہیں تھی۔ یہ ایک بہت شدید حملہ تھا اور ان کا مقصد مجھے مارنا تھا۔”اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کے روز مغربی کنارے کے جنوب میں واقع گاؤں سوسیا میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تصادم کے دوران تین فلسطینیوں کو “پتھراؤ” کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔فوجی بیان میں کہا گیا، “اس کے بعد ایک پرتشدد تصادم شروع ہوا جس میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پتھراؤ بھی شامل تھا۔”یہ گاؤں مسافر یطا کے قریب واقع ہے جو ہیبرون شہر کے جنوب میں بستیوں کا ایک گروپ ہے۔ نو ادر لینڈ یہاں فلمائی گئی ہے۔اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین دستاویزی فلم مسافر یطا میں اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی جبری نقلِ مکانی کی کہانی بیان کرتی ہے۔