آلیر فرضی انکاؤنٹر کے مہلوک مسلم نوجوانوں کے لواحقین انصاف رسانی کے منتظر

   

8 سال کاعرصہ گذر گیا ، تلنگانہ کی سیکولر حکومت سے انصاف کی آس، قومی انسانی حقوق کمیشن کے احکامات و ہدایت نظرانداز

حیدرآباد۔/8 اپریل، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے آلیر میں پیش آئے فرضی انکاونٹر میں ہلاک مسلم نوجوانوں کے لواحقین آج 8 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ عدالتی تحویل میں موجود 5 مسلم نوجوانوں جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں تھیں جو پولیس جمعیت کی نگرانی میں جیل سے عدالت منتقل کئے جارہے تھے آلیر کے قریب انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا ۔ اس انکاؤنٹر کے فرضی ہونے کا انسانی حقوق تنظیموں اور ایم بی ٹی نے دعویٰ کیا تھا ۔ ٹی آر ایس سے بی آر ایس بنی جماعت جو سیکولر ہونے اور مسلم اقلیت دوست جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اس فرضی انکاؤنٹر کے خاطیوں کو سزاء اور مہلوکین کے لواحقین کو انصاف دلانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔ وقار الدین، ڈاکٹر حنیف، سید احمد، محمد ذاکر اور اظہر خاں کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا۔ اس انکاؤنٹر کے 8 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود انصاف کے منتظر خاندان آج بھی سیکولر حکومت سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ انکاؤنٹر کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن کے احکامات اور ہدایت کو بھی حکومت نے نظرانداز کردیا ۔ انکاؤنٹر میں ہلاک مسلم نوجوانوں کے خاندانوں کا مسلم قیادت سے بھروسہ اُٹھ چکا ہے اور ریاست کے مسلمان سیکولرازم کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی آر ایس حکومت سے انصاف کے اقدامات کے منتظر ہیں۔ سال 2015 میں 7 اپریل کو پیش آئے اس فرضی انکاؤنٹر کے بعد انتخابات میں جن مسلم تنظیموں اور قائدین و قیادت نے موجودہ بی آر ایس حکومت کی تائید کا اعلان کیا تھا مجلس بچاؤ تحریک کے قائد امجد اللہ خان خالد نے ان سے سوال کیا اور کہا کہ آخر کس بنیاد پر بی آر ایس کی تائید کا اعلان کیا گیا تھا۔ امجد اللہ خان خالد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تک اس فرضی انکاؤنٹر میں ملوث ملازمین پولیس اور عہدیداروں کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ حکومت نے قومی انسانی حقوق کمیشن کی سفارشات اور معاوضہ دینے کی ہدایت کو بھی نظرانداز کردیا۔ آلیر کے فرضی انکاونٹر کے بعد قائم کی گئی ایس آئی ٹی کا کوئی پتہ نہیں اور نہ ہی واقعہ کی وعدہ کے مطابق کوئی سیٹنگ جج کے ذریعہ تحقیقات کروائی گئی۔آلیر کے فرضی انکاؤنٹر کو پیش آئے 8 سال کا عرصہ گذر چکا ہے اور حکومت اس تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کرتی۔ ریاست کے وزیر داخلہ مسلمان ہونے کے باوجود ریاست کے مسلمانوں کو انصاف حاصل نہیں ہوا۔ امجد اللہ خان قائد مجلس بچاؤ تحریک نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرتے ہوئے ان سے انصاف کئے بغیر وہ وزیر اعظم کی مسند پر بیٹھنے کاخواب نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آلیر انکاؤنٹر ملک کا پہلا ایسا انکاؤنٹر ہے جہاں عدالتی تحویل میں نہتے مسلم نوجوانوں کو ہلاک کردیا گیا وہ بھی ایک سیکولر ریاست میں ۔ ایسے انکاؤنٹر شمالی ہند اور بی جے پی زیر قیادت ریاستوں میں بھی پیش نہیں آئے۔ ریاست میں جس جماعت کی قیادت اور حکومت ہے ایسے واقعات پیش آئے ایسی حکومتیں اور جماعتیں اقتدار سے بے دخل کردی گئیں اور آج بھی اقتدار کے لئے ترس رہی ہیں۔ امجد اللہ خان خالد نے ان مسلم جماعتوں اور تنظیموں سے جو بی آر ایس کی تائید کا اعلان کرچکی ہیں سوال کیا اور کہا کہ انہیں اب مسلمانوں کو جواب دینا ہوگا۔ آلیر انکاؤنٹر میں 5 مسلم نوجوان جو عدالت سے باعزت بری ہونے والے تھے اور پولیس نے ان سے بدلہ لیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سیکولر ساکھ کو ثابت کرنے کیلئے آلیر انکاؤنٹر میں ہلاک 5 مسلم نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرے۔ ع