آندھرا پردیش کا قرض 10 لاکھ کروڑایک لاکھ کروڑ کے بلز زیر التواء

   

خاطی عہدیداروں کو بخشا نہیں جائے گا، چندرا بابو نائیڈو کا ارکان اسمبلی سے خطاب
حیدرآباد۔/18 ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ریاست کا مجموعی قرض 10 لاکھ کروڑ ہے اور ایک لاکھ کروڑ کے مختلف کاموں کے بلز زیر التواء ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے منگل گیری میں این ڈی اے لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں تلگودیشم، جنا سینا اور بی جے پی کے ارکان اسمبلی شریک تھے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہاکہ سابق حکومت نے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی اور مرکزی حکومت کے فنڈز کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے فراہم کردہ فنڈز کا مناسب استعمال نہیں ہوا۔ چندرا بابو نائیڈو نے تجویز پیش کی کہ ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کو اپنے حلقہ جات کی ترقی کیلئے ویژن ڈاکومنٹ تیار کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم برسراقتدار آنے کے بعد ریاست کی معاشی صورتحال انتہائی ابتر تھی۔ سرکاری خزانہ خالی تھا اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی دشوار کن بن چکی تھی باوجود اس کے تلگودیشم حکومت ترقیاتی ایجنڈہ پر کاربند ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں 20 لاکھ روزگار فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ مرکز کا اگر تعاون نہ ہوتا تو ریاست کی صورتحال اور بھی ابتر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں انہوں نے پہلی مرتبہ اس قدر بھاری کامیابی کا مشاہدہ کیا ہے۔ تلگودیشم کو 151 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ مین اپوزیشن صرف 11 نشستوں تک محدود ہوگئی اور یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں بے قاعدگیوں میں ملوث عہدیداروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تاخیر ضرور ہوسکتی ہے لیکن جن عہدیداروں نے غلطی کی ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔1