آپ کا مکان آپ کے ہی نام ہے یا نہیں پتہ کرلیں

   

جائیداد ٹیکس کی ادائیگی کے دوران متعدد مکانات دوسروں کے نام منتقلی کی شکایتیں
حیدرآباد۔3۔مئی۔(سیاست نیوز) آپ کا مکان آپ ہی کا ہے یا کسی اور کے نام پر کردیا گیا ہے ! آپ کی جائیداد آپ کے نام پر ہے یا نہیں یہ جاننے کے لئے لازمی ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے وصول کئے جانے والے جائیداد ٹیکس میں کس کا نام ہے اس کا جائزہ لیا جائے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود جائیدادوں کے دوسروں کے ناموں پر منتقل ہوجانے کی شکایات معمول کی بات بن چکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ بلدی عہدیداراس سلسلہ میں کوئی جواب دینے سے قاصر ہیں۔ جی ایچ ایم سی عہدیدارو ںنے بتایا کہ مالکین جائیداد کو خبر ہوئے بغیر ان کی جائیدادوں کے ناموں کی تبدیلی کی متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور ان شکایات کو دورکرنے کے لئے کوئی میکانزم نہ ہونے کے سبب عہدیدارو ںکوبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جی ایچ ایم سی سرکل ملکاجگری میں 20سال سے جائیداد کے مالک رام مورتی جب اپنی جائیداد کا ٹیکس ادا کرنے کے لئے سرکل دفتر سے رجوع ہوئے توان کی جائیدادان کے نام پر موجود نہیں تھی جس پر انہوں نے اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت کی تو انہوں نے سب رجسٹرار کے دفتر سے رابطہ قائم کرنے کا مشورہ دیا اور وہ گذشتہ کئی ماہ سے سب رجسٹرار اور سرکل دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ان کا مسئلہ حل نہیں ہوپایا ہے۔ اسی طرح کی شکایات شہر کے دیگر علاقوں اور سرکل سے بھی موصول ہونے لگی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ پراپرٹی TIN پر تبدیل شدہ ناموں کی وجہ سے مالکین جائیداد کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ برسوں سے جائیدادوں کے نام پر ہونے اور ان جائیدادوں پر مالکین کے قبضے موجود ہونے کے باوجود ان جائیدادوں کے مالکین کی حیثیت سے دوسروں کے نام چڑھائے جانے کی وجہ سے شہریو ںکو حیرت و استعجاب کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بغیر تحقیق اور تنقیح کے عہدیدارو ںکی جانب سے مالکین جائیداد کی حیثیت سے ناموں کو تبدیل کردیئے جانے کی وجہ سے حقیقی مالکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذرائع کا کہناہے کہ جائیدادوں کے مالکین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے سب رجسٹرار کے پاس موجود دستاویزات کی بنیاد پر ان کی تنقیح کی کوشش کی جار ہی ہے لیکن یہ مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ فرضی دستاویزات کی بنیاد پر جائیدادوں کے مالکین کے ناموں کی تبدیلی عمل میں لائی جارہی ہے اور جائیداد ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعہ جائیداد کے ٹیکس کے رسائد کی بنیاد پر ملکیت پر دعوے پیش کئے جانے لگے ہیں۔م