سونم وانگ چوک کی زبردستی منتقلی کی شدید مذمت ۔ نوجوانوں سے پیر کو پارلیمنٹ مارچ میں شرکت کی اپیل ۔ خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے
نئی دہلی 18 جولائی ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے اعلان کیا کہ اب طلباء و نوجوانوں کا مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی تک محدود نہیں رہ گیا ہے اور دھرمیندر پردھان کو مسلسل بچانے پر اب طلباء اور نوجوان وزیر اعظم نریندر مودی سے استعفی چاہتے ہیں۔ ابھیجیت ڈپکے نے دہلی کے جنتر منتر سے ماحولیاتی جہدکار سونم وانگ چوک کو زبردستی اٹھا کر دواخانہ منتقل کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلباء کے مسائل کی سماعت کیلئے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک 60 سالہ شخص ( سونم وانگ چوک ) نوجوانوں اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے گذشتہ 21 دن سے بھوک ہڑتال کر رہا تھا ۔ حکومت نے ان سے بات چیت کرنا تک گوارا نہیں کیا اور انہیں پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی جنتر منتر سے اٹھا دیا گیا اور انہیں دواخانہ منتقل کردیا گیا ۔ اطلاع ملی ہے کہ سونم اونگ چوک دواخانہ میں بھی اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے علاج کی سہولیات سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ابھیجیت ڈھکے نے کہا کہ انہیں صبح کے وقت جنتر منتر پہونچنے سے روک دیا گیا تھا اور ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ انہیں جب سونم وانگ چوک کو زبردستی اٹھانے کی اطلاع ملی تو وہ تیزی سے جنتر منتر پہونچ رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں روک دیا اور بمشکل جنتر منتر پہونچے تھے تاہم اس وقت تک سونم وانگ چوک کو منتقل کردیا گیا تھا ۔ ڈپکے نے کہا کہ پولیس کی جانب سے جنترمنتر پر طاقت کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے اور طلباء کے ساتھ مارپیٹ بھی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کیلئے اپنا احتجاج شروع کیا تھا لیکن حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے اور پردھان کو مسلسل بچایا جا رہا ہے ۔ اب سونم وانگ چوک کی منتقلی کے بعد سی جے پی کا مطالبہ بدل گیا ہے۔ اب طلباء صرف دھرمینر پردھان کے استعفی کا نہیں بلکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ڈپکے نے کہا کہ پولیس کی اس طرح کی کارروائیوں کے باوجود سی جے پی کے حوصلے پست نہیں ہونگے اور احتجاج جاری رہے گا ۔ ابھیجیت ڈپکے نے سونم وانگ چوکی کی منتقلی کے بعد خود غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طلباء قائدین پہلے ہی سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھے اور اب انہوں نے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے ۔ ڈپکے نے کہاکہ حکومت کی ساری کوششوں کے باوجود 20 جولائی پیر کو سی جے پی کا پارلیمنٹ مارچ برقرار ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مارچ میں کثیر تعداد میں شرکت کریں۔