اب متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد کا سروے

,

   

ہندو سینا کی درخواست پر متھورا کی عدالت کا حکم
متھورا : اترپردیش کے شہر متھورا کی ایک عدالت نے شاہی عیدگاہ مسجد کے 2 جنوری کے بعد محکمہ آثار قدیمہ سے سروے کی ہدایت دی ہے ۔ ہندو فریق کا دعوی ہے کہ یہ مسجد بھی کرشنا جنم بھومی پر بنائی گئی ہے ۔ عدالتی ہدایات کے مطابق سروے کے بعد 20 جنوری کے بعد عدالت میں یہ رپورٹ بھی پیش کردی جائے گی ۔ عدالت نے ہندو سینا کے وشنو گپتا کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر یہ احکام جاری کئے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وارناسی کی گیان واپی مسجد میں جس طرح کا سروے کیا گیا تھا متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد میں بھی اسی طرح کا سروے کیا جائیگا ۔ گیان واپی مسجد میں شیولنگ دستیاب ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ۔ عدالت نے آج احکام جاری کرنے کے بعد آئندہ سماعت 20 جنوری کو مقرر کی ہے ۔ کئی ہندو تنظیموں نے درخواستیں دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 17 ویں صدی میں بنائی گئی شاہی عیدگاہ مسجد کو یہاں سے منتقل کیا جائے ۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ مسجد لارڈ کرشنا کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد مغل حکمران اورنگ ذیب کے احکام پر 1669-70 میں13.37 ایکر اراضی پر بنائی گئی جو کاٹرا کیشو دیو مندر کا احاطہ تھا ۔ وشنو گپتا کے وکیل شیلیش دوبے نے کہا کہ عدالت میں لارڈ کرشنا کے جنم سے مندر کی تعمیر تک کی تمام تاریخ پیش کی گئی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سری کرشنا جنم استھان سیوا سنگھ بمقابلہ شاہی عیدگاہ کے مابین 1968 میں جو معاہدہ ہوا تھا اسے بھی برخواست کیا جائے کیونکہ یہ غیرقانونی ہے ۔ متھورا کی ایک سیول عدالت نے قبل ازیںاس درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔