اب 1264 ایکڑ وقف اراضی چلی گئی

   

جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ اراضی پر قوم کی خاموشی کا نتیجہ۔ علماء، مشائخین اور دانشوران ملت پر اہم ذمہ داری

(محمد مبشرالدین خرم)
حیدرآباد۔15جولائی۔امت مسلمہ اور مسلم قیادت ‘ مذہبی رہنمائوں اور منتخبہ سیاسی قائدین کی خاموشی ریاست تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ اراضی کی تباہی اور اسے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ ہراج کرنے کے بعد حکومت تلنگانہ کی نظریں درگاہ حضرت مخدوم بیابانی ؒ کی 1264ایکڑانتہائی قیمتی وقف اراضی پر ہے اور اس موقوفہ جائیداد کو قانونی طریقہ سے حکومت نے حاصل کرنے کے لئے اعلامیہ جاری کرنے کے بعد اب محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اس اراضی کی معمولی قیمت وصول کرنے پر مجبور کرنا شروع کردیا ہے۔ ریاستی حکومت نے تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجود 1264 ایکڑ انتہائی قیمتی اراضی کو قانون حق حصول اراضی کے تحت حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مذکورہ اراضی کو تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے حوالہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔حکومت تلنگانہ نے آلور کی مصدقہ موقوفہ جائیداد کے حصول کیلئے متعلقہ محکمہ جات بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مذکورہ اراضی تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے حوالہ کرتے ہوئے معمولی قیمت دینے سے متعلق اپنے فیصلہ سے واقف کروایا ہے۔ حکومت تلنگانہ کے گزٹ میں درگاہ حضرت مخدوم شاہ بیابانی ؒ کے تحت سروے نمبر 115 چیوڑلہ میں موجود ہے۔ اس انتہائی قیمتی اراضی جو کہ زائد از 50ہزار کروڑ مالیت کی اراضی ہے اسے حکومت نے معمولی قیمت کی ادائیگی کے ذریعہ حاصل کرنے کے لئے اعلامیہ جاری کرنے کے علاوہ مکتوبات روانہ کردیئے ہیں۔ کلکٹر ضلع رنگاریڈی نے آلور۔I ‘ آلور۔II کے علاوہ آلور۔III میں موجود موقوفہ جائیدادوں کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس میں تمام سروے نمبرات کی تفصیلات درج ہیں جو کہ قانون حق حصول اراضی کے تحت حاصل کی جائیں گی۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ مال و ضلع رنگاریڈی کے لینڈ اکویزیشن آفس سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں ہزاروں کروڑ کی مالیت کی ان اراضیات کے حصول کے سلسلہ میں 1248 ایکڑ 22 گنٹہ موقوفہ اراضی انڈسٹریل کاریڈور کی تعمیر وترقی کے لئے حاصل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔بتایاجاتاہے کہ ضلع رنگاریڈی میں آلور ۔I موضع منڈل چیوڑلہ میں مجموعی طور پر 510 ایکڑ موقوفہ اراضی حاصل کی جا رہی ہے اس کے علاوہ موضع آلور۔II میں 380 ایکڑ 38 گنٹہ اراضی حاصل کرنے کا فیصلہ کیاگیا اس کے علاوہ آلور ۔IIIمیں موجود 357ایکڑ16 گنٹہ وقف اراضی حاصل کی جارہی ہے اس طرح ریاستی حکومت کے محکمہ مال نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق وقف بورڈ کی ملکیت والی جملہ 1248 ایکڑ 22گنٹہ وقف اراضی حاصل کرنے جا رہی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے مذکورہ اراضی قانون حق حصول اراضی 2013 کے تحت حاصل کرنے کیلئے کہا ہے اور ضلع کلکٹر و محکمہ مال کے عہدیداروں نے چیوڑلہ میں موجود اس انتہائی قیمتی اراضی کا سروے مکمل کرتے ہوئے رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ ریاستی حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے انہیں معمولی قیمتوں کی ادائیگی کے ذریعہ حاصل کرتے ہوئے کروڑہا روپئے میں فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں کاغذی کارروائیاں بھی مکمل ہوچکی ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ محکمہ مال کے عہدیداروں نے اس سلسلہ میں متعدد مکتوبات محکمہ اقلیتی بہبود کو روانہ کرتے ہوئے مذکورہ اراضی کے لئے مختص کئے گئے معاوضہ کو حاصل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کے تحت منی کنڈہ جاگیر کی موقوفہ اراضی کو بھی اسی طرح سے ریاستی حکومت نے حاصل کرتے ہوئے ’’آندھراپردیش انڈسٹریل انفراسٹرکچر کمپنی لمیٹڈ ‘‘ کے حوالہ کردیا تھا اور اس انتہائی قیمتی جائیدادسے وقف بورڈ کو محروم ہونا پڑا تھا اور اب جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ موقوفہ اراضی کو تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کمپنی لمیٹڈ کے ذریعہ تباہ کرتے ہوئے ریاست کے خزانہ میں دولت جمع کرنے کے بعد اب شہر کے نواحی علاقہ چیوڑلہ میں موجود وقف بورڈ کی ہزاروں کروڑ روپئے مالیت کی اراضی کو تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کے ذریعہ حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے قانون حق حصول اراضیات کے تحت 1248 ایکڑ اراضی پر قبضہ جات کا دعویٰ کرتے ہوئے نصف رقم قابضین اور نصف رقم وقف بورڈ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں حکومت کے فیصلہ سے محکمہ اقلیتی بہبود کو واقف کروایا جاچکا ہے۔بتایاجاتاہے کہ محکمہ مال نے اس ہزاروں کروڑ کی مالیت کی اراضی کے لئے فی ایکڑ قیمت 50لاکھ روپئے مقرر کی ہے جس میں 25لاکھ روپئے قابضین کو دیئے جائیں گے جبکہ 25لاکھ روپئے فی ایکڑ تلنگانہ وقف بورڈ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداراس پیشکش کو قبول کرنے میں تذبذب کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’بورڈ‘ کی موجودگی میں عہدیدار اپنے طور پر موقوفہ جائیدادکو قانون حق حصول اراضی کے تحت حکومت یا کسی اور محکمہ یا ادارہ کو حوالہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور یہ فیصلہ محض وقف بورڈ کی جانب سے ہی کیا جاسکتا ہے۔