اترکاشی : اترکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں پورولا گاؤں میں جاری کرسمس کے ایک پروگرام پر تقریبا 30 افراد کے ایک گروپ نے لاٹھیوں سے حملہ کردیا ۔ ان کا الزام تھا کہ وہاں زبردستی تبدیلی مذہب کیا جا رہا ہے ۔ بعد ازاں پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کرلیا جن میں عیسائی پادری اور ان کی شریک حیات شامل تھی ۔ ان دونوں پر بھی گروپ نے حملہ کردیا تھا ۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور نوجوانوں کا ایک ہندو گروپ سے تعلق ہے ۔ ان دونوںکو بعد ازاں رہا بھی کردیا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ اس معاملہ کی باہمی تفہیم ہوچکی ہے ۔ ہوپ اینڈ لائیف سنٹر پر یہ حملہ کیا گیا تھا جو آج دو پہر کے قریب ہوا ۔ پادری کا تعلق یونین چرچ مسوری سے ہے جو دعائیہ اجتماع کی قیادت کر رہے تھے ۔ ریاستی بی جے پی حکومت نے حال ہی میں انسداد تبدیلی مذہب بل اسمبلی میں پیش کیا ہے اور اسمبلی میں منظوری کے بعد اس بل کو آج ہی گورنر کی منظوری بھی حاصل ہوگئی ہے ۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ریاست میں اکثر وبیشتر مذہبی اقلیتوں بشمول عیسائی اور مسلم برادری پر حملوں کے واقعات میںاضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔