لکھنؤ۔ اتر پردیش میں پیغمبر اسلامؐ کی شان اقدس میں گستاخانہ بیان اور اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج کرنے پر دو ہزار سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کیخلاف احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کے سلسلے میں صرف اتر پردیش پولیس نے اب تک ریاست کے مختلف اضلاع سے 1562 افراد کو گرفتار کیا ہے۔اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف تشدد کے سلسلے میں ریاست میں اب تک 1,562 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے 535 گرفتاریاں جونپور سے کی گئی ہیں۔ بلیا سے 222 اور چندولی سے 210 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 29 اضلاع میں 82 مقدمات درج کیے گئے۔ 17 جون کو بلیا، وارانسی، آگرہ، علی گڑھ اور دیگر اضلاع سمیت مختلف مقامات پر نوجوانوں نے فوج میں بھرتی کے لیے نئی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا۔کمار نے کہا کہ ریاست کے 10 اضلاع (کانپور، فیروز آباد، علی گڑھ، ہاتھرس، مراد آباد، امبیڈکر نگر، کھیری، جالون، سہارنپور اور اِلٰہ آباد) سے 424 نے 3 جون اور 10 جون کو پیغمبر اسلامؐ کے خلاف متنازعہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ گرفتاریوں کے علاوہ اور اب تک 20 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ 3 جون اور 10 جون کو اتر پردیش کے کئی شہروں میں بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی طرف سے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف کیے گئے متنازعہ ریمارکس پر سنگباری اور تشدد کے کئی واقعات پیش آئے۔ان واقعات میں کئی دکانات اور موٹر گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ سنگباری میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔