اجین شاہی مسجدتنازعہ‘تاحال 15 افراد گرفتار، 5 انفلوئنسرز پر مقدمہ

   

منگل کی صبح بھی مسجدکمیٹی کے اراکین نے باہمی رضامندی سے مسجد کا کچھ حصہ ہٹایا

بھوپال۔29؍ستمبر ( ایجنسیز )مدھیہ پردیش کے اجین میں سڑک کی توسیع کے لیے شاہی مسجد کے ایک چھوٹے حصہ کو ہٹائے جانے کے دوران پیر کے روز زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا، جس نے علاقہ میں کشیدگی بڑھا دی تھی لیکن اب حالات بہتر ہیں۔ اس معاملہ میں اب تک 15 افراد کی گرفتاری ہو چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔مسجد کمیٹی خود ہی شاہی مسجد کا مخصوص حصہ توڑ رہی ہے۔ منگل کی صبح بھی مسجد نمائندہ کمیٹی کے اراکین باہمی رضامندی سے خود ہی دوبارہ تعمیر کا کچھ حصہ ہٹانے میں مصروف نظر آئے۔قابل ذکر ہے کہ کنٹھال سے گوپال مندر جانے والے راستے کی سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت چھتری چوک واقع شاہی مسجد کی تعمیر کا کچھ حصہ ہٹایا جا رہا ہے۔ سڑک کی توسیع کا کام متاثر نہ ہو، اس کے لیے مسجد کے نیچے چلنے والی 8 سے 10 دکانوں کو بھی پیر کی دیر شب خالی کرا لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے ضروری حصے کو ہٹانے پر کمیٹی کے اراکین کی رضامندی تھی۔انتظامیہ کے مطابق پیر کے روز مسجد کمیٹی کی جانب سے پْرامن طریقے سے تعمیر کا کچھ حصہ ہٹائے جانے کے باوجود سوشل میڈیا پر گمراہ کن ریلز اور ویڈیوز نشر ہونے لگیں۔ اسی دوران کچھ شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا۔ تنازعہ کے دوران شہر قاضی خلیق الرحمٰن نے لوگوں سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں پر توجہ نہ دینے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر گمراہ کن ویڈیوز اور افواہیں پھیلانے کے معاملے میں 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف کھارا کوان تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ان میں ساجد خان، عمران خان، گلریز خان، بلو پٹھان اور عارف پٹھان شامل ہیں۔ پولیس نے 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سبھی کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے جانچ کی جا رہی ہے۔اس درمیان اجین کے کلکٹر روشن کمار سنگھ نے عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی گمراہ کن خبروں اور افواہوں پر بھروسہ نہ کریں۔