احاطہ سکریٹریٹ میں ادائیگی نماز کیلئے مسلم تنظیموں کا ’ چلو سکریٹریٹ ‘ پروگرام

,

   

سڑک پر نماز ظہر ادا کی گئی، قائدین اور کارکن گرفتار، مساجد کی تعمیر کا مطالبہ، سارا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیلی
حیدرآباد۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں شہید کردہ مساجد کی دوبارہ تعمیر کیلئے حکومت پر دباؤ بنانے مسلم تنظیموں نے آج ’ چلو سکریٹریٹ‘ کے تحت نماز ادا کرنے کی کوشش کی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے بازیابی مساجد نے یہ اپیل کی تھی جسے کانگریس، مجلس بچاؤ تحریک اور دیگر جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کیلئے پولیس نے کل رات سے ہی سخت چوکسی اختیار کرلی تھی۔ مسلم قائدین کی قیامگاہوں کے روبرو پولیس پکیٹ تعینات کرتے ہوئے انہیں محروس کردیا گیا تھا۔ سکریٹریٹ کے اطراف واکناف بھاری پولیس بندوبست کرتے ہوئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاکہ احتجاجیوں کو پہنچنے سے روکا جاسکے۔ پولیس کے غیر معمولی انتظامات کے باوجود جے اے سی کے قائدین سکریٹریٹ کے قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے سڑک پر باجماعت نماز ظہر ادا کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ مساجد کی دوبارہ تعمیر تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ نوجوانوں کے مختلف گروپس سکریٹریٹ تک پہنچ گئے اور کئی مقامات پر نماز سڑک پر ادا کی گئی۔ احتجاجیوں سے نمٹنے میں پولیس کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ سکریٹریٹ کے اطراف و اکناف پہنچنے والے 200 سے زائد احتجاجیوں کو حراست میں لیا گیا۔ صدر تحریک مسلم شبان مشتاق ملک اور دیگر قائدین کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب انہوں نے سکریٹریٹ کے قریب پہنچ کر نماز ظہر باجماعت ادا کی۔ نماز کے بعد مساجد کی بازیابی کیلئے دعا کی گئی۔ سکریٹریٹ کے اطراف کے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے پولیس احتجاجیوں کو گرفتار کررہی تھی۔ نائب صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی محمد راشد خاں پولیس کو چکمہ دے کر ساتھیوں کے ہمراہ سکریٹریٹ کے قریب پہنچ گئے اور سڑک پر باجماعت نماز ادا کی۔ نامپلی انچارج فیروز خاں اور ان کے ساتھیوں کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ سکریٹریٹ کے قریب نماز ادا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خاں کو پولیس نے گھر پر محروس کردیا تھا۔ قائدین اور کارکنوں کو سیف آباد، گوشہ محل، بیگم بازار، نارائن گوڑہ اور دیگر پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کیا گیا۔ چلو سکریٹریٹ پروگرام میں حصہ لینے کیلئے نہ صرف حیدرآباد بلکہ قریبی اضلاع سے مختلف تنظیموں کے قائدین حیدرآباد پہنچے۔ پولیس نے جگہ جگہ تلاشی لے کر نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ نظام آباد اور محبوب نگر میں مسلم قائدین کو حیدرآباد پہنچنے سے روکنے کیلئے مکانات پر محروس کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کے خلاف سکریٹریٹ کے اطراف علاقوں میں احتجاجیوں نے نعرہ بازی کی اور حکومت سے مساجد کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں کے پولیس حصار توڑ کر پہنچنے سے صورتحال کسی قدر کشیدہ ہوگئی تھی۔ کل رات سے ہی سکریٹریٹ کے اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی۔