احتجاجی پہلوانوں نے جنتر منترکو تربیتی مرکز میں بدل دیا

   

نئی دہلی۔ ہندوستانی پہلوان بجرنگ پونیا، ساکشی ملک، ونیش پھوگٹ اور دیگر نوجوان پہلوانوں نے ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کے درمیان جنتر منتر کو اپنا تربیتی مرکز بنا لیا ہے۔ احتجاج کے چوتھے دن، انہیں کشتی کی مشقیں کرتے دیکھا گیا۔ ونیش سنگیتا پھوگاٹ کے ساتھ ٹریننگ کر رہی تھیں، جب کہ ساکشی کی مدد ان کے شوہر ستیہ ورت کدیان نے کی، جو ارجن ایوارڈ یافتہ پہلوان ہیں۔ اس دوران، ایک فزیو چٹائی پر بجرنگ کی مدد کر رہا تھا، اس سے پہلے کہ اولمپک برونز میڈلسٹ نے کچھ اسٹریچنگ کی۔ وہ سب تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے لیکن راتوں میں نیند کی کمی کے باوجود کھیل کے لیے ان کا جنون واضح تھا۔ بجرنگ آئی اے این ایس کو بتایا ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا۔ اور اگر ہم غلط ہیں تو ہم سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ کشتی ہمارے لیے سب کچھ ہے اور ہم خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں پریکٹس کرتے رہیں گے۔ ایک کوچ نے کہا ہر فائٹ میں فٹنس اہم ہوتی ہے۔ ہمارے پہلوان اسے سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کئی بار ہندوستان کو میڈلس دلایا ہے۔ یہ برا لگتا ہے کہ وہ یہاں جنتر منتر پر احتجاج کے مقام پر ورزش کر رہے ہیں، جب انہیں اسٹیڈیم میں ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند ماہ میں بڑے ٹورنمنٹس آرہے ہیں۔حکومت جلد فیصلہ کرے اور ان کی مدد کرے۔ اس سے پہلے، چہارشنبہ کے روز دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ برج بھوشن کی طرف سے جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والے پہلوانوں کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے کچھ ابتدائی تحقیقات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑکی سربراہی والی بنچ کے سامنے پیش کیا کہ کچھ ابتدائی تحقیقات کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ عدالت حکم دیتی ہے تو ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔ مہتا نے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ کچھ انکوائری ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ عدالت بھی کچھ نہیں کرنا چاہے گی جب تک کچھ مواد نہ ہو۔ بنچ نے مہتا سے جمعہ کو مواد پیش کرنے کو کہا اور نشاندہی کی کہ اس معاملے میں ایک نابالغ شامل ہے۔ 25 اپریل کو سینئر وکیل کپل سبل اور نریندر ہڈا نے عدالت کے سامنے عرضی کا ذکرکیا، یہ درخواست پہلوانوں کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا درخواست میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات ہیں، جو پیشہ ور بین الاقوامی پہلوانوں کے ذریعہ عائد کیے گئے ہیں جنہوں نے ہندوستان کی نمائندگی کی اور کامیابی سے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس عدالت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا جو شکایات ایک مہر بند لفافے میں درخواست کے ساتھ منسلکہ کا حصہ بنتی ہیں، ان کو دوبارہ مہر بند کیا جائے گا اور شکایت کنندگان کی حفاظت کے لیے، فہرست کی اگلی تاریخ کو آرٹیکل 32 کے تحت درخواست کے ساتھ رکھا جائے گا۔ پہلوانوں کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کئی بار دہلی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ خواتین ایتھلیٹس، جو ہماری قوم کا سر فخر سے بلند کرتی ہیں، جنسی ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں، اور وہ حمایت حاصل کرنے کے بجائے انہیں انصاف کے حصول کے لیے ایک مقام سے دوسرے مقام تک بھاگنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں ملزم ایک بااثر شخص ہے اور انصاف سے بچنے کے لیے قانون کے عمل کا غلط استعمال کر رہا ہے اور قانونی نظام میں مزید توڑ پھوڑ کر رہا ہے اور انصاف میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک انصاف نہیں ہوگا وہ احتجاج جاری رکھیں گے ۔