جہاں تک دیکھ سکتا ہوں اندھیرا ہی اندھیرا ہے
مگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی قیمت پر منظوری نہیں دی جا رہی ہے ۔ ملک کے کسی بھی گوشے میں احتجاج کی کوشش کی جا رہی ہے تو پولیس کی جانب سے اسے ناکام بنایا جار ہا ہے ۔ قومی دارالحکومت دہلی میں تو ساری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں ۔ حکومت عام لوگوں کی طرح ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بھی طاقت کا استعمال کر رہی ہے اور انہیں بھی احتجاج سے روکا جا رہا ہے ۔ حکومت ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں خوف کا شکار ہوگئی ہے ۔ وہ کئی طرح کے اندیشوں میں بھی مبتلا ہوسکتی ہے اور شائدیہی وجہ ہے کہ احتجاج کو بزور طاقت کچلا جا رہا ہے اور ناکام بنانے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ 2 اکٹوبر کو گاندھی جینتی کے دن دارالحکومت دہلی میں احتجاج کا آغاز ہوا تھا ۔ اس دن وکلاء ‘ سماجی جہد کار ‘ طلباء قائدین اور نوجوان سڑکوں پر اترے تھے ۔ وہ جنتر منتر جانا چاہتے تھے ۔ تاہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔ انہیں راستے میں روکا گیا ۔ جنتر منتر کی سمت پیشرفت کیلئے مصر کارکنوں اور جہد کاروں کو بارہا حراست میں لیا گیا ۔ دوسرے دن بھی تقریبا یہی صورتحال رہی اور تیسرے دن بھی یہی کچھ چلتا رہا ۔ جب ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو انہیں بھی روک دیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنے نہیں دیا گیا ۔ جنتر منتر پہونچنے سے انہیں بھی روکا گیا اور ساری دہلی میں احتجاج کو کچلنے کیلئے ہر ممکن ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اتنی شدت کے ساتھ احتجاج کو کچلنے کی کوششیں ناقابل فہم کہی جاسکتی ہیں یا پھر یہ الزامات ہی درست قرار پاتے ہیں کہ حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سے خود استفادہ کیا ہے اور اقتدار حاصل کرنے میں ان کی مدد حاصل کی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ووٹ چوری کے معاملے میں کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہو اور اس سارے معاملے کی مزید حقائق ملک کے عوام کے سامنے آجائیں ۔
جہاں تک احتجاج کا سوال ہے تو حکومت اس پر طاقت کا استعمال نہیںکرسکتی اور نہ ہی کسی کو بلا وجہ احتجاج کرنے سے روک سکتی ہے ۔ احتجاج کرنا اس ملک کے عوام کا بنیادی اور جمہوری حق ہے ۔ ہندوستان جمہوری ملک ہے ۔ اس ملک کی جمہوریت ہی کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اور ملک کے طلباء ‘ نوجوان ‘ جہد کار ‘ سیول سوسائیٹی کی تنظیمیں جمہوریت کو بچانے کیلئے ہی جدوجہد کر رہی ہیں۔ جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہی سڑکوں پر اتری ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت انہیں احتجاج سے روکنا چاہتی ہے ۔ ایک طرف ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش کی گئی ہے تو دوسری طرف جمہوری احتجاج کرنے کے حق کو بھی کچلا جا رہا ہے ۔ پرامن احتجاج کو روکنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ صرف دو ماہ قبل جب دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبہ پر احتجاج ہوا تھا تو وہ بھی ایک ماہ سے زائد وقت تک چلا تھا اور ایک ماہ کے دوران ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔ سارا احتجاج پر امن رہا تھا اور اپنے مقصد کی تکمیل کے بعد پرامن طریقے سے احتجاج ختم بھی ہوگیا تھا ۔ اس طرح نوجوانوں اور طلباء نے عملا ثابت کردیا کہ تشدد ان کا راستہ نہیں ہے بلکہ وہ پرامن طریقے سے اپنے جمہوری حق کو بچانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکومت پرامن احتجاج کی اجازت بھی دینا نہیںچاہتی اور وہ خوف کا شکار دکھائی دے رہی ہے ۔ حکومت کا رویہ اس پر کلگنے والے الزامات کو درست ثابت کرتا ہے ۔
جو احتجاج دہلی میںش روع ہوا تھا اب وہ ملک کے دوسرے شہروں تک بھی پہونچ رہا ہے اور مختلف گوشوں سے مختلف طریقوں سے احتجاج شروع کیا جا رہا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں حکومت کو جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنی چاہئے ۔ احتجاج کو کچلنے کی کوششوں سے باز آجانا چاہئے ۔ اس ملک کے عوام فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کے جمہوری حق کو تلف کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ساتھ ہی یہ بھی طئے کرچکے ہیں کہ پرامن احتجاج کے دستوری حق کو کچلنے کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔