اختراعی ذہنیت کے حامل افراد کو سعودی شہریت

   

اقتصادی اور سماجی اصلاحات پر کامیاب عمل آوری کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کی کوشش
حیدرآباد ۔ 10 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : مملکت سعودی عرب میں طب ، ٹکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں کے ماہرین کو شہریت عطا کی جارہی ہے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سعودی حکومت نے حال ہی میں طب اور ٹکنالوجی کے بیرونی ماہرین کو سعودی شہریت عطا کی ۔ حکومت نے مملکت کی معیشت کا رخ مختلف سمتوں میں موڑنے کی کوششوں کے ایک حصہ کے طور پر یہ پہل شروع کی ہے ۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی معیشت کو جو زیادہ تر تیل پر منحصر ہے ایک نئی جہت عطا کرنے اور دوسرے شعبوں تک اسے وسعت دینے کے لیے خصوصی منصوبے بنائے ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنے اقتصادی اور سماجی اصلاحات سے متعلق منصوبوں کو روبہ عمل لانے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ اس ملک میں برسوں سے رہنے والے تارکین وطن کو شہریت کی پیشکش کرنے کی روایت نہیں پائی جاتی ہے تاہم شہزادہ محمد بن سلمان کی شروع کردہ اس پہل کا مقصد دنیا بھر کے سائنسدانوں ، دانشوروں اور اختراعات پسندوں کو راغب کرنا اور سعودی عرب کو ایک ایسے مرکز میں تبدیل کرنا ہے جس پر عرب دنیا کو فخر ہو ۔ سعودی ذرائع کے مطابق فارنسک اینڈ میڈیکل سائنس ، ٹکنالوجی ، زراعت ، جویری و قابل تجدید توانائی ، تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کے ماہرین کو سعودی شہریت عطا کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ اس طرح کے ماہرین میں آرٹس ، کھیل کود اور کلچر اور علماء کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ سعودی شہریوں کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنی ملک کی دولت میں حصہ کے طور پر اقتصادی فوائد اور وظیفہ اعزازی حاصل ہوتا ہے ۔ سعودی شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر سعودی شہریت کے لیے درخواست داخل کرچکے ایسے امیدوار جو مقررہ پیمانوں پر پورا اترتے ہیں ۔ انہیں مملکت کی شہریت عطا کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں رہ رہے یمنی تارکین وطن کو بھی شہریت دی جائے گی ۔ تین یوم قبل سعودی سفیر متعینہ ہندوستان عزت مآب ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی نے بھی اپنے دورہ حیدرآباد کے موقع پر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین اور علماء کو سعودی شہریت عطا کی جارہی ہے ۔۔