سنگ بنیاد کے پانچ سال گزر گئے، سکریٹریٹ کی تعمیر میں حکومت کی عجلت پسندی
حیدرآباد۔18 ۔ستمبر(سیاست نیوز ) ادارہ انیس الغرباء کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھے ہوئے 5برس سے زیادہ کا عرصہ گذر5 چکا ہے لیکن اس عمارت کی تکمیل نہیں ہوپائی جبکہ 3سال قبل تلنگانہ سیکریٹریٹ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو کہ آئندہ ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے 18جون2017کو انیس الغرباء کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھا تھا اور 21کروڑ کی لاگت سے تیار کئے جانے والے اس پراجکٹ کو اب تک مکمل نہیں کیا جاسکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس عمارت کی تعمیر کی تکمیل جاریہ سال کے اواخر تک یقینی بنائی جائے گی لیکن اس پراجکٹ پر کام کرنے والے ذمہ داروں کا کہناہے کہ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب اس عمارت کی تعمیر کے کاموں کی رفتار سست ہے ۔ تلنگانہ حکومت میں مسلم امور کی نگرانی اور ان کے مسائل کے حل یا ان سے متعلق ترقیاتی کاموں کو بہتر طریقہ سے مکمل کرنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے کوئی ذمہ دار موجود نہیں ہے جس کے سبب ان کاموں کو تاخیر کا شکار بنایا جاتا رہا ہے اور اس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے 18جون 2017کو ادارہ انیس الغرباء کی 3منزلہ عمارت کاسنگ بنیاد رکھا گیا جو اب تک مکمل نہیں ہوپائی ہے اور اس کے لئے منظورہ 21کروڑ کا بجٹ حکومت کو بوجھ نظر آرہا ہے جبکہ اس کے برعکس 27جون 2019کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئی سیکریٹریٹ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور اب یہ عمارت مکمل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔حکومت کی جانب سے نئی سیکریٹریٹ کی عمارت کی تعمیر کے لئے 610کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں اور اس کام میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔حکومت کی جانب سے انجام دیئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے معاملہ میں اختیار کئے جانے والے اس متعصبانہ رویہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ گذشتہ 8 برسوں کے دوران مسلمانوں کے لئے کئے جانے والے ایک اعلان پر بھی مؤثر عمل آوری نہیں ہوپائی ہے جبکہ انیس الغرباء کی نئی عمارت کے سلسلہ میں عملی پیشرفت کے باوجود اس عمارت کی تکمیل کو تعطل کا شکار بنائے رکھا جا رہاہے ۔انیس الغرباء کی نئی عمارت کی تکمیل کے سلسلہ میں جب کبھی جائزہ اجلاس منعقد ہوتا ہے تو حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے تیقن دیا جاتا ہے کہ اندرون 10 ماہ ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا لیکن جائزہ اجلاس کے بعد کاموں کی رفتار دوبارہ سست ہوجاتی ہے جس کے نتیجہ میں 4000 گز پر مشتمل اس 3منزلہ عمارت کے تعمیری کاموں کو مکمل نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ ریاستی حکومت کے نئے سیکریٹری کی ہمہ منزلہ عمارت کے تعمیری کام تین سال میں پائے تکمیل کو پہنچنے جار ہے ہیں۔م