7 89 لاکھ سے زائد ووٹرس کے ریکارڈ میں غلطیاں، 41 لاکھ ووٹرس کے شناختی کارڈس میں تصویر دھندلی
7 ایک گھر میں 10 سے زائد ووٹرس کے جملہ 26 لاکھ ووٹ، 16 لاکھ ووٹرس کے نام ، عمر ، شوہر یا والد کے اندراج میں غلطیاں
حیدرآباد ۔30 ۔ جون (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کئے گئے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کا عمل فی الحال فیلڈ سطح پر انتہائی الجھن اور تکنیکی افراتفری کا باعث بن چکا ہے ۔ زمینی سطح پر کام کرنے والے عملے (BLOs) اور عام شہریوں کو سنگین تکنیکی خرابیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ریاست بھر میں انتخابی ڈیٹا کی تصدیق کا عمل سست پڑگیا ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہے کہ ہنوز 550 بی ایل اوزڈیوٹی پر رجوع نہیں ہوئے ۔ خرابی صحت اور کام کا بوجھ کے علاوہ دوسرے بہانے کئے جارہے ہیں۔ جس سے SIR کا عمل توقع کے مطابق نہیں ہورہا ہے ۔ بی ایل اوز کی جانب سے صرف Enumeration Forms دیئے جارہے ہیں ۔ خانہ پوری کے معاملات میں ووٹرس کی کوئی رہنمائی نہیں کی جارہی ہے ۔ بعض BLOs اس معاملہ میں اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے رائے دہندوں کو فارم کی خانہ پوری کرنے کے بعد فون کال پر اطلاع دینے کیلئے زور دیا جارہا ہے ۔ سب سے بڑی رکاوٹ سال2002 کے پرانے ووٹر بیس ڈیٹا کے ساتھ موجودہ ریکارڈ کی میاپنگ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سروَر ڈاؤن ہونے اور موبائیل پر (OTP) موصول نہ ہونے کی وجہ سے ایپ کے ذریعہ تصدیق کا عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے ۔ الیکشن ایپ ان دستاویزات کو قبول ہی نہیں کر رہا ہے۔ جہاں نام ، گھر کا پتہ ، اور آدھار کارڈ میں درج تاریخ پیدائش یا دیگر تفصیلات ووٹر کے پرانے ڈیٹا سے معمولی سے بھی مختلف یا (Mismatch) ہیں۔ انتخابی عہدیداروں نے خود یہ چونکا دینے والا نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں 89 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کے موجودہ ریکارڈس میں مختلف اقسام کی سنگین غلطیاں موجود ہیں۔ ان 89 لاکھ گمنام اور غلطیوں سے بھرے ووٹرس میں سب سے بڑی تعداد 41,52,434 ریکارڈس ایسے ہیں جن کے تصویری شناختی کارڈ (Electoral Photo Identity Card – EPIC) میں خامیاں ہیں۔ چونکہ بہت سے شہریوں کے ووٹر کارڈس میں تصاویر انتہائی دھندلی کالی اور ناقابل شناخت ہیں۔ اس لئے اب ان کی جگہ نئی رنگین تصاویر اپ لوڈ کی جارہی ہیں لیکن ایپ کی سست کارکردگی اس میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں تقریباً 16 لاکھ ووٹرس ایسے ہیں جن کی عمر، نام (Surname) والا یا شوہر کے نام سرکاری ریکارڈ میں بالکلیہ غلط درج ہیں ۔ حیدرآباد کے بشمول ریاست کے دیگر شہری علاقوں میں ایک اور سنسنی خیز اور اب تک کا ایسا بڑا مسئلہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ہی گھر کے نمبر پر 10 سے زیادہ ووٹ موجود ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست بھر میں اس زمرے کے تحت 26.14 لاکھ ووٹ رجسٹرڈ پائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں اب (BLAs) اور انتحابی عملہ گھر گھر جاکر فیلڈ انسپیکشن اور زمینی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام تر چیالنجس اور تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود پیر کی شام تک ریاست بھر میں 1.73 کروڑ Enumeration Forms گھر گھر تقسیم کئے جاسکے ہیں جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ ماباقی فارمس آئندہ دو دن میں صد فیصد تقسیم کردیئے جائیں گے ۔ ماہرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک 2002 کے پرانے ڈیٹا بیس کی لازمی میاپنگ کی شرط میں نرمی نہیں کی جاتی اور Server کی صلاحیت کو نہیں بڑھایا جاتا تب تک اتنے بڑے پیمانہ پر ڈپلیکیٹ اور غلط ووٹر لسٹوں کی درستگی ٹھیک ٹھیک طرح ہو پانا ایک خواب ہی رہے گا۔2/k