رام مندر عطیہ چوری ملزمین سے ایس آئی ٹی کی پوچھ تاچھ

   

چمپت رائے کئی سوالوں کے جواب نہیں دے پائے ‘تحقیقات جاری

نئی دہلی ۔30؍جون ( ایجنسیز)رام مندر عطیات کی چوری کے معاملے میں اب تحقیقات زور پکڑ رہی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے جانچ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے سے تقریباً 3 گھنٹے تک پوچھ تا چھ کی جس کے بعد ان کا بیان قلم بند کیا گیا۔ چمپت رائے پوچھ گچھ کے دوران کئی سوالوں کے جواب نہیں دے پائے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے ٹرسٹ سے وابستہ عہدیداروں، ملازمین اور دیگر متعلقہ لوگوں سمیت تقریباً 70 لوگوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ تفتیش کرنے والی پولیس عطیات کے انتظام، نگرانی کے طریقہ کار، ملازمین کی تقرریوں اور بینکنگ عمل کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق چمپت رائے سے پوچھ گچھ کے دوران عطیات کے انتظامی نظام، انتظامی فیصلوں، ملازمین کی ذمہ داریوں اور شکایات کے ازالے سے متعلق کئی سوالات پوچھے گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ٹرسٹ کے سابق رکن انل مشرا اور عہدیدار گوپال راؤ سمیت تقریباً 70 افراد کو نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں نے مندر کے 5 سے 6 دیگر ملازمین سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چمپت رائے نے پوچھ تاچھ کے دوران بتایا کہ عطیہ کی چوری میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایودھیا دھام برانچ کا بھی دورہ کیا۔ وہاں برانچ منیجر سمیت 5 ملازمین سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ پولیس نے مندر کے عطیہ جمع کرنے کے عمل سے متعلق دستاویز حاصل کئے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عطیات کو بینک میں منتقل کرنے کے پورے عمل میں کہیں کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی۔ زمین کی خرید و فروخت میں کمیشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی بھی تحقیقات اس وقت جاری ہیں۔ تفصیلی تفتیش مکمل ہونے کے بعد سبھی کے کردار کو پوری طرح واضح کیا جائے گا اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔