واشنگٹن / ممبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ اپنے ملک میں درآمداتی سازوسامان اور اشیاپر محصولات عائد کیے جانے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہاہے اور اب انکے نشانے پر فارما سیکٹر ہے۔ امریکی صدر نے چہارشنبہ کے روز ادویات پر محصولات کا اعلان کیاہے جس کے بعد ہندوستانی فارما کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ ہندوستانی ادویات اور خاص طورسے غیر برانڈیڈ یا جینرک ادویات کا ایک بڑا بازار ہے ۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے فارما سیکٹر کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا ۔اس کے بعد وہ متعدد بار یہ کہتے رہے ہیں کہ ادویات پر بھی ٹیرف لگائیں گے اور چہارشنبہ کے روز انھوں نے ایک بار پھر اس کا اعلان کیا۔ اسی وجہ سے دوا ساز کمپنیوں کے حصص میں زبردست اتار چڑھاؤ آیا ہے ۔ سن فارما ،ڈاکٹر ریڈی لیب ،سپلا سمیت تقریبا سبھی فارما کمپنیوں کے شیئرز آج سرخ نظر آرہے ہیں لیکن بایوکون اور لوپین جیسی فارما کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے جن کے شیئر ز تقریبا 3 فیصد گر گئے ہیں۔
ٹرمپ کی طرف سے دیگر سازوسامان پر جوابی محصولات پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں لیکن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ادویات پر کب اور کتنا ٹیرف عائد کریں گے ۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد اس کا اعلان کریں گے ۔