اردو زبان سکھانے ، اردو کو روزگار سے مربوط کرنے پر زور

   

خانگی اسکولس میں اردو پڑھانے کی مساعی ، نذیر احمد میموریل لکچر ، پروفیسر ایم ویجو لتا و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ مہیلا وشواودیالیم ( کوٹھی ویمنس کالج ) میں ’ نذر احمد میموریل لکچر ‘ بعنوان ’ اردو زبان کا تحفظ اور عملی اقدامات ‘ منعقد ہوا ۔ وائس چانسلر پروفیسر ایم ویجولتا نے اردو زبان کو ایک میٹھی زبان قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے ساتھ زبانوں کا ارتقاء بھی ضروری سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تمام طلباء ریاست تلنگانہ کی پہلی اور دوسری سرکاری زبان اردو اور تلگو پر مکمل عبور حاصل کریں ۔ صحافی روزنامہ سیاست محمد ریاض احمد نے اردو دنیا کو اس نامعلوم حقیقت سے روشناس کروایا کہ ’ کوٹھی ویمنس کالج اردو کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے جس وقت دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا جارہا تھا اس وقت برٹش ریزیڈنٹ کرک پیٹرک کی طرف سے مخالفت ہورہی تھی ایسے میں کرک پیٹرک کو قائل کرنے اور مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لیے بابائے اردو ڈاکٹر عبدالحق کی خدمت لی گئی اور انہیں مشن دیا گیا کہ وہ کرک پٹیرک کو قائل کریں ۔ اس جلسے میں جناب محمد محمود علی سہیل صدر و جنرل سکریٹری سید سمیع اللہ حسینی ’ آئیٹا ‘ نے کہا کہ ان کی تنظیم شہر حیدرآباد میں 250 اسکولوں کے ساتھ کام کررہی ہے اور وہ ان دو سو پچاس اسکولوں میں ابتداء ہی سے اردو کو سرکاری طور پر بحیثیت زبان اول عملی طور پر لازمی کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد شوکت نے آئیٹا پر زور دیا کہ وہ ’ آئیٹا ‘ سے وابستہ 250 اسکولوں میں سرکاری طور پر ایک مضمون اردو کو لازمی عمل کریں ۔ جناب محمد عبدالرحیم فہیم نے اس موقع پر کہا کہ وہ بھی ایک طویل عرصے سے اردو زبان کی خدمت کررہے ہیں ۔ جناب فضل الرحمن خرم ڈائرکٹر ڈان ہائی اسکول نے بتایا کہ انہوں نے شخصی طور پر اسکول انتظامیہ سے ملاقات کرتے ہوئے کئی اسکولوں میں اردو زبان کو لازمی بنانے پر آمادہ کرلیا ہے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد شعیب فرزند محمد نذیر احمد نے اپنے کلینک میں اردو میں ڈسکرپشن لکھنے کا اعلان کیا ۔ مہمان خصوصی جناب محمد شکیل احمد سرکاری مندوب عالمی صحت نے کہا کہ وہ آج بھی روزنامہ سیاست پڑھتے ہیں ان کا ذریعہ تعلیم اردو ہی رہا ہے ۔ صدر جلسہ محمد شاہد حسن خصوصی قانونی مشیر مملکت سعودی عربیہ و امریکہ نے حکومت تلنگانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام اسکولوں اور جونیر کالجوں میں اردو کے لزوم کو یقینی بنائیں ۔ پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کہا کہ ’ اردو کا رسم الخط ختم ہورہا ہے اس کو بچائیے ‘ ۔ اس موقع پر فعال اردو اساتذہ کو تہنیت پیش کی گئی ۔ ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ نے جلسے کی کارروائی چلائی ۔۔