نئی دہلی: ایک طرف جہاں اردو کے زوال کی پیش قیاسیاں کی جا رہی ہیں، وہیں دوسر ی جانب یہ زبان نئے چراغوں کے ذریعہ اپنی روشنی پھیلا رہی ہے اور نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے ۔ غیر اردو داں طبقے سے غیرمعمولی کارنامہ انجام دیتے ہوئے ، سینئر صحافی روہنی سنگھ نے نہ صرف لسانی و ثقافتی سرحدوں کو پار کیا بلکہ چند ہی برسوں میں اردو پر عبور حاصل کر کے اس میں ایک کتاب بھی تصنیف کر ڈالی۔ “اردو میں میرا دوسرا جنم” کے عنوان سے منظرِ عام پر آنے والی یہ کتاب درحقیقت ان کے اردو سے وابستگی کے سفر کی داستان ہے ایک ایسا سفر جو دریافت، عشق اور تہذیبی ہم آہنگی کی خوشبو سے معطر ہے ۔اردو، جو اپنی نرمی، شاعرانہ لطافت اور گنگا جمنی تہذیب سے گہرے رشتے کے لیے معروف ہے ، ہمیشہ سے طبقات، زبانوں اور مذاہب کے بیچ ایک پل کا کام کرتی آئی ہے ۔ یہ زبان صدیوں پر محیط اپنی ادبی اور ثقافتی وراثت کی بازگشت آج بھی سنبھالے ہوئے ہے ۔ روہنی کا یہ کارنامہ محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ اردو کی آفاقی، وحدت بخش اور ہمہ گیر روح کا زندہ ثبوت ہے ۔روہنی کی کہانی کو اور بھی دلچسپ بنانے والی بات یہ ہے کہ ان کا پس منظر غیراردوداں ہے ۔ وہ سکھ خاندان میں پیدا ہوئیں، جن کے آبا و اجداد تقسیمِ ہند کے بعد غیر منقسم پنجاب سے ہجرت کرکے جھارکھنڈ کے چھوٹے قصبے میں بس گئے ۔ان کے دادا اردو کے شناور تھے اور گرنتھ صاحب کو اسی رسم الخط میں پڑھتے تھے ، مگر وقت کی گردش نے ان کے خاندان میں اس زبان کو معدوم کر دیا۔مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ روہنی کی اردو سے محبت کی جڑیں ان کے بچپن کی ان سنہری یادوں میں پیوست ہیں، جب وہ اپنے دادا کو اردو رسم الخط میں پڑھتے دیکھتی تھیں۔ یہ دلچسپی وقت کے ساتھ شدید لگن میں تبدیل ہوتی گئی۔ اردو سیکھنے کا یہ سفر آسان نہ تھا۔ کئی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر انہوں نے قومی کونسل برائے فروغِ اردو دہلی میں داخلہ لیا اور باضابطہ طور پر اردو سیکھنے کی منزل تک پہنچیں۔