اردو صحافت پر قوم اور سماج کی ذمہ داری

   

صحافت میں کامیابی کے لیے عملی صلاحیتیں اور منفرد مہارتیں پیدا کریں: عامر علی خان
حیدرآباد، 16 ستمبر (پریس نوٹ): مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کی جانب سے اظہارِ خیال سیریز کے تحت ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں صحافت‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی گیسٹ لیکچر منعقد ہوا ۔ پروگرام میں روزنامہ سیاست کے نیوز ایڈیٹر اور ایم ایل سی جناب عامر علی خان نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عامر علی خان نے کہا کہ صحافت ایک محنت طلب پیشہ ہے ، تاہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آمد سے صحافتی کام میں کئی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ صحافیوں کو اے آئی کو محض خبر یا اسٹوری لکھنے کے ایک ذریعہ کے طور پر نہیں بلکہ تحقیق، معلومات کے حصول اور صحافتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی معلومات اور ذرائع فراہم کرسکتا ہے ، لیکن ایک معیاری اور مؤثر اسٹوری کے لیے صحافی کی اپنی تحقیق، ذہانت اور تخلیقی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی موضوع کی گہرائی میں جاکر تحقیق کرنا ہی ایک بہتر صحافت کی بنیاد ہے۔ سوشل میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل، خصوصاً جین زی، سوشل میڈیا کو تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون اور ڈیجیٹل ذرائع کا مثبت اور مؤثر استعمال کرتے ہوئے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو فروغ دیں اور شہری صحافت کے ذریعے معاشرے میں اہم کردار ادا کریں۔ روزگار کے بدلتے ہوئے رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ آج کی دنیا میں صرف تعلیمی اسناد کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ عملی صلاحیت اور منفرد مہارتیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس انداز میں ترقی دیں کہ صنعت اور میڈیا ادارے خود ان کی خدمات حاصل کرنے کے خواہاں ہوں۔ صحافت کا بنیادی مقصد معاشرے کی آواز کو بلند کرنا ہے۔ اخبارات اور صحافی اگر عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر سوال نہیں اٹھائیں گے تو یہ ذمہ داری کون ادا کرے گا؟ انہوں نے اردو صحافیوں کی سماجی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت ابتدا ہی سے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی اسے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرنی چاہیے۔ پروگرام کے دوران شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ نے موضوع سے متعلق مختلف سوالات کیے ، جن کے مہمان مقرر نے تفصیلی اور تشفی بخش جوابات دیے۔ پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر سعدیہ نجار نے انجام دی جبکہ شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے ہیڈ اور ڈین پروفیسر احتشام احمد خان نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ پروگرام میں شعبہ کے جملہ اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔