حیدرآباد /16 فروری ( پریس نوٹ ) یونیورسٹی لٹریری کلب ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے ادیب ، اردو جہد کار اور ماہنامہ ’’شگوفہ ‘‘ کے مدیر ڈاکٹر سید مصطفی کمال کے اعزاز میں ایک شام ڈاکٹر سید مصطفی کمال کے نام منعقد کیاگیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے قیام سے 2007 تک میں اس ادارے سے وابستہ رہا۔انہو ںنے کہا کہ میں نے قومی سطح پر اردو املا اور اصطلاحات سازی کی معیار بندی اور یکسانیت برقرار رکھنے کیلئے یونیورسٹی میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔ اردو یونیورسٹی کو اردو املا کی معیار بندی کی ذمہ داری لینی چاہئے ۔ نصابی کتابوں میں املا کی یکسانیت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طنز و مزاج کے میدان میں بہت کام کرنے کی گنجائش ہے ۔ جب شگوفہ جاری ہوا تو طنز و مزاح کو پھکڑ پن سمجھا جاتا تھا ۔ شگوفہ اور زندہ دلان حیدرآباد نے اس داغ کو دھویا اور معیاری طنزیہ و مزاحیہ تحریروں کو فروغ دیا ۔صدر اجلاس ، ڈین بہبودی طلبہ پروفیسر سید علیم اشرف جائسی نے کہا کہ تعلیم تو کلاس روم میں دی جاسکتی ہے لیکن تہذیب کا درس ثقافتی سرگرمی مرکز میں ہی ممکن ہے ۔ ڈاکٹر مصطفی کمال روح اور دل کی تھکن کو دور کرنے والی شخصیت ہیں ۔ یہ کام وہ رسالہ ’’ شگوفہ‘‘ کے ذریعہ گذشتہ 56 برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔ او ایس ڈی 1 پروفیسر صدیقی محمد محمود نے طنز و مزاح کے میدان میں ڈاکٹر مصطفی کمال کی خدمات کا مختصر اور جامع تذکرہ کیا ۔ ڈین اسکول برائے لنسہ ، لسانیت و ہندوستانیات پروفیسر گلفشاں حبیب نے کہا کہ ڈاکٹر مصطفی کمال نے نظامت فاصلاتی تعلیم کی درسی کتب کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ۔ پروفیسر شمس الہدی دریا بادی ، صدر شعبہ اردو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ا ودھ پنچ 38 برس تک شائع ہوا ۔ شگوفہ نے اس کاریکارڈ توڑ دیا ۔ یہ رسالہ 56 برس سے مسلسل نکل رہا ہے ۔ طنز و مزاح نگار زندہ دل ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کی عمر بھی لمبی ہوتی ہے ۔ پروفیسر نسیم الدین فریس سابق صدر شعبہ اردو ، مانو نے کہا کہ مجھ میں ادب کا ذوق بیدار کرنے میں ڈاکٹر سید مصطفی کمال کا اہم کردار رہا ہے۔ شگوفہ نے اول درجے کا طنز و مزاح پیش کیا ۔ شگوفہ کا غالب نمبر ، پیروڈی نمبر ، ڈراما نمبر دستاویزی اہمیت کے حامل ہیں۔ پروگرام کے آغاز میں یونیورسٹی لٹریری کلب کے صدر ڈاکٹر فیروز چالم نے حاضرین کا خیرمقدم کیا ۔کلچرل کوآرڈینیٹر جناب معراج احمد نے انتظامات کی نگرانی کی ۔مدثر احمد نے مہمان کا تعارف پیش کیا۔ نظامت احمد سہیل مانوی اور اظہار تشکر یونیورسٹی لٹریری کلب کی جوائنٹ سکریٹری سفینہ بانو نے کیا ۔ اس موقع پر جناب عابد عبدالواسع ،ڈاکٹر احمد خان ، ڈاکٹر اسلم پرویز ، جناب حبیب احمد جناب کلدیپ برڈے کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔