اساتذہ کے ریشنلائزیشن موقوف رہنے سے ماہرین تعلیم کو تشویش

   

محکمہ تعلیم سے تاحال کوئی احکامات نہیں ، طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : محکمہ تعلیم طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے اسکولس میں ٹیچرس کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ریشنلائزیشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ جن اسکولس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں جزوقتی ٹیچرس کا تقرر کرنے میں ہنوز ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے ۔ اسکولس میں ڈھائی ماہ قبل ہی نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ٹیچرس کے تبادلوں اور ترقیوں کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ تاہم ٹیچرس کے ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کوئی زبانی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے ۔ اگرچیکہ رہنمایانہ خطوط جاری کرنے پر غور کیا جارہا ہے لیکن اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جن اسکولس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں ٹیچرس کی تعداد کم ہے ۔ جن اسکولس میں طلبہ کی تعداد کم ہے وہاں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے ۔ موجودہ صورتحال پر ماہرین تعلیم تشویش میں مبتلا ہے کہیں غریب طلبہ تعلیم سے محروم نہ ہوجائے ۔قانون حق تعلیم میں واضح ہے کہ کتنے طلبہ کے لیے کتنے ٹیچرس ہونا چاہئے ۔ حالیہ ٹیچرس کے تبادلوں کے دوران محکمہ تعلیم نے ٹیچرس کے تناسب میں تبدیلی کی ہے ۔ اس کے مطابق ہر 10-1 طلبہ کے لیے ایک ٹیچر کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ پہلے 19-0 طلبہ کے لیے ایک ٹیچر دیا جاتا تھا ۔ اس طرح 11 تا 40 طلبہ کے لیے دو ٹیچرس 41 تا 60 طلبہ کے لیے 3 ٹیچرس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس فیصلے میں کس حد تک تبدیلی کی بھی توقع کی جارہی ہے لیکن پھر بھی ایسے سینکڑوں اسکولس ہیں جہاں طلبہ زیادہ ٹیچرس کم اور ٹیچرس زیادہ طلبہ کم ہیں ۔ اس صورتحال میں کم از کم وقتی طور پر تبدیلی لانے کے لیے پچھلے چند برسوں سے ٹیچرس کو ان جگہوں پر ایڈجسٹ کیا جارہا ہے جہاں ان کی ضرورت ہے ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ہر سال اس کے لیے زبانی ہدایات دینے کے بعد ڈی ای او اس عمل کو ختم کردیں گے ۔ اساتذہ کو کسی دوسرے اسکول میں ایڈجسٹ کیا جارہا ہے تو ان میں سے کم از کم 20 تا 30 فیصد سیاسی دباؤ کی وجہ ضرورت نہ رہنے والے اسکولس سے منتقل نہیں ہورہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس مرتبہ ریاستی سطح پر رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے شیڈول جاری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ اسکولی تعلیم سے دستاویز دو ماہ قبل ہی حکومت کو روانہ کردیا گیا ہے تاہم اس کو بھی منظوری نہیں ملی ہے ۔ والدین استفسار کررہے ہیں کہ ٹیچرس کے بغیر تعلیم کیسے ممکن ہے ۔ چند مقامات پر ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل کی جانب سے ٹیچرس کی کمی کو دور کرنے کی ڈی ای اوز کو ٹیلی فون کرتے ہوئے اپیل کررہے ہیں ۔ اگر ریاست بھر میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ٹیچرس کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تو ایک اندازے کے مطابق جاریہ تعلیمی سال کے اواخر اپریل تک تقریبا 4000 تا 5000 ٹیچرس کا عارضی طور پر تبادلہ کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریبا 400 اسکولس ایسے ہیں جہاں 10 سے کم طلبہ ہیں اور 2 ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ قواعد کے مطابق وہاں صرف ایک ٹیچر ہونا چاہئے ۔ اگر دوسرے اسکولس میں ٹیچرس کی تعداد ضرورت کے مطابق ہو تو وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ سینکڑوں اسکولس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے اور اساتذہ کی تعداد کم ہے تو وہاں کم از کم ٹیچرس کو ایڈجسٹ کرنا چاہئے۔۔ 2