مسلمانوں کے دشمن راجہ سنگھ کے خلاف بی آر ایس اور مجلس نے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا
90 فیصد مسلمان کانگریس کے ساتھ ، بی آر ایس ۔ بی جے پی اور مجلس میں فیوی کال کا بندھن
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی نے مجلس پر مسلمانوںکے سروں کا سودا کرکے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کا الزام عائد کیا ۔ بی آر ایس ۔ بی جے پی اور مجلس میں فیوی کال کا بندھن ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا رکن اسمبلی راجہ سنگھ روزانہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے ہر مسئلہ پر تنقید کرتا ہے اسمبلی حلقہ گوشہ محل میں مجلس کا ہیڈکوارٹر دارالسلام ہے مگر مجلس نے کبھی راجہ سنگھ کو شکست دینے میدان میں اپنے امیدوار کو نہیں اتارا ۔ اس طرح حکمران بی آر ایس نے ابھی تک حلقہ گوشہ محل سے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ۔ جس سے بی آر ایس ۔ بی جے پی اور مجلس میں خفیہ اتحاد ہونے کا ثبوت آشکار ہوگیا ہے ۔ بی آر ایس اور مجلس بھی راجہ سنگھ کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں ۔ ریونت ریڈی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس خفیہ گٹھ جوڑ پر غور کریں ۔ بی آر ایس ۔ بی جے پی اور مجلس کو شکست دیتے ہوئے کانگریس کو کامیاب بنائیے ۔ اپنی تقریر کے دوران اذان ہونے پر احترام میں ریونت ریڈی نے اپنی تقریر کو روک دیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرستوں کا کھلونا بن جانے والے اسد الدین اویسی کے باتوں پر یقین کرکے دھوکہ نہ کھائیے بلکہ کانگریس کو کامیاب بنائیے ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں 80 فیصد مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا اور کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا ہے ۔تلنگانہ میں 90 فیصد مسلمان کانگریس کے ساتھ ہیں ۔ انہیں یقین ہے بھاری اکثریت سے کانگریس پارٹی حکومت تشکیل دے گی کیوں کہ اقلیتیں جس پارٹی کی تائید کرتے ہیں اس جماعت کو اقتدار حاصل ہونا یقین ہے ۔ کانگریس پارٹی ہی اقلیتوں کی محافظ ہے ۔ ہمارے قائد راہول گاندھی فرقہ پرستوں کے سامنے آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں ۔ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت تشکیل دینے کے بعد اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے لیے کانگریس بڑے پیمانے پر اقدامات کریگی ۔ ن