نئی دہلی : وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کے روز لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی سے سکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے ۔ایوان بالا میں ایک بیان میں امیت شاہ نے کہا کہ اسدالدین اویسی پر اتر پردیش میں ضلع ہاپوڑ کے پلکھوا کے چھجارسی ٹول پلازہ کے پاس جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی پولس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہے ۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اویسی کے سفر یا آمد و رفت کے بارے میں مقامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں تھی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اویسی پر حملے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں کے پاس سے دو غیر قانونی پستول برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اویسی کو دہلی اور کیرالہ میں بلٹ پروف کار اور زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔بیان کے بعد امیت شاہ نے کہا کہ انہیں زبانی طور پر معلوم ہوا ہے کہ اویسی نے سکیورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اویسی کو سکیورٹی لینی چاہئے اور سب کے خدشات کو دور کرنا چاہئے ۔