یروشلم: اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کیلئے بین الاقوامی حمایت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقدامات کو اس کمی کی وجہ قرار دیا۔العربیہ انگلش کی روزانا لاک ووڈ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اولمرٹ نے کہاکہ میرے خیال میں (اسرائیل کی حمایت) تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہے۔اولمرٹ نے اس کی وضاحت کی: “میرے خیال میں جو ممالک پہلے اسرائیل کے حامی تھے، اب بھی اسرائیل کی ریاست اور اسرائیل کے عوام کے حامی اور دوست ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ اسرائیل کی حکومت کے بھی حامی ہوں۔ انہوں نے اس حمایت میں کمی کیلئے نیتن یاہو کے ’’تکبر اور بربریت‘‘ کو موردِ الزام قرار دیا۔اولمرٹ نے مزید کہا کہ یہ وزیر اعظم کے رویئے کا نتیجہ ہے۔ میرے خیال میں اسرائیل کی ریاست اور اسرائیل کے عوام کیلئے ان ممالک کے بنیادی رویئے میں تبدیلی کوئی ڈرامائی یا بنیادی نہیں ہے۔اولمرٹ نے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیل۔ حماس جنگ پر بھی تبصرہ کیا اور زور دیا کہ اسے اب رک جانا چاہیے کیونکہ اسرائیل پہلے ہی “جیت چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اب بند ہو جانی چاہیے۔ فوجی تصادم جاری رکھنے کی مجھے کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔ اسرائیل نے یہ فوجی مقابلہ جیت لیا۔ حماس ڈرامائی طور پر کمزور ہو چکی ہے۔ تو اب وقت آ گیا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو جلد از جلد واپس لایا جائے۔ اولمرٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کو اسرائیل کے مفادات پر ترجیح دی۔ انہوں نے اس شک کا اظہار کیا کہ نیتن یاہو حماس کے ساتھ جنگ بندی پر راضی ہو جائیں گے کیونکہ اس کا مطلب ان کے اتحاد کے سخت گیر ارکان کی حمایت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔انہوں نے کہا، “نیتن یاہو کے ساتھ ہمارے تجربے کی بنیاد پر وہ اپنے حکومتی مفاد اور اس اتحاد کے استحکام کو اسرائیل کے قومی مفاد پر ترجیح دیں گے۔اولمرٹ نے کہا، ان کا یہ خیال نہیں ہے کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا جانا چاہیے اور اسرائیلی افواج کے طرز عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا: “مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل میں کسی کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف بلا امتیاز اور اندھا دھند گولی چلانے کا کوئی حکم دیا گیا ہے۔