نیتن یاہو کیخلاف پرائم منسٹر کے بجائے ’’کرائم منسٹر ‘‘کے بیانرس ، مظاہرین کے ہاتھوں میں امریکی پرچم توجہ کا مرکز
تل ابیب : اسرائیل میں عدالتی اختیارات کو محدود کرنے سے متعلقہ حکومتی اصلاحات کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے 13 ویں ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی طرف سے التوا کے اعلان کے باوجود حکومت کی متنازعہ عدالتی اصلاحات کے خلاف تل ابیب سمیت مغربی القدس، ہائفہ، راعنان اور نیتانیا جیسے شہروں کے احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں مظاہرین نے شرکت کی۔ہر ہفتے کی طرح سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تل ابیب کا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ‘کاپلان شاہراہ ‘پر واقع حکومتی کامپلیکس کے سامنے جمع ہوئے۔مظاہرے کی جگہ پرنیتن یاہو کی وزارت اعظمیٰ کے خلاف ” کرائم منسٹر” کی تحریر والے دیو ہیکل بینر بھی لٹکائے گئے۔رواں ہفتے کے مظاہرے میں مظاہرین کے ہاتھوں میں امریکی پرچم بھی مرکزِ توجہ بنے ہیں۔امریکہ کے صدر جوبائیڈن کے، حکومت کی عدالتی اصلاحات کے معاملے میں، اندیشوں کا اظہار کرنے کے بعد احتجاجی مظاہروں میں اسرائیلی پرچم کے ساتھ امریکی پرچم بھی لہرائے جا رہے ہیں۔تل ابیب میں مظاہرین کے ایک گروپ نے شہر کے مرکزی آیالون موٹر وے کو بلاک کر دیا اور اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے گھوڑ سوار یونٹوں اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے 19 مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔مغربی القدس میں بھی ہزاروں مظاہرین نے صدارتی رہائش گاہ کے سامنے عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔مرکزی حزب اختلاف پارٹی کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم یائر لاپڈ نے بھی عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیا ہے۔لاپڈ نے ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں اپنی شرکت سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے کی تصاویر شیئر کیں اور کہا ہے کہ “ہم ابھی تک منتظر بیٹھے ہیں۔ ابھی خطرہ ختم نہیں ہوا”۔واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیر انصاف یاریف لیوین کی 5 جنوری کو اعلان کردہ عدالتی اصلاحات ، سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے اور عدالتی تعیناتیوں میں اقتدار کے عمل دخل میں اضافے پر مبنی ہیں۔مذکورہ اصلاحات کے ملک بھر میں وسیع پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کا سبب بننے کے بعد وزیر اعظم نیتان یاہو نے 27 مارچ کو اصلاحات کو التوا میں ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔