اسرائیل نے حوثیوں کا بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا

   

تل ابیب ۔ 27 جون (ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا۔ حوثی گروپ کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بحیرہ احمر تین ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیلی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔اپنے ہفتہ وار ٹیلی ویڑن خطاب میں عبد المالک الحوثی نے وضاحت کی کہ ان کے گروپ نے مارچ 2023 میں دوسرے راؤنڈ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل پر 309 بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل اور ڈرون لانچ کیے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو تل ابیب کے لیے ایک فوجی شکست قرار دیا اور کہا کہ تل ابیب ایران میں اہداف کو تباہ کرنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔اسرائیل نے جمعرات کو تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ملک بھر میں کم از کم 50 میزائل حملے ہوئے ہیں تاہم میڈیا کوریج پر سخت فوجی پابندیوں کی وجہ سے نقصان کی درست حد ظاہر نہیں کی گئی۔ اسرائیل نے ایک قانون کے تحت “قومی سلامتی” کی مبہم اصطلاح کے تحت شائع ہونے والے تحریری اور بصری مواد کو طویل عرصے سے سنسر کر رکھا ہے۔ سنسر شپ کی جڑیں 1948 میں اسرائیل کے قیام سے بھی پہلے کی ہیں جب فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں نے اسرائیل میں 28 افراد کو ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی حکومت کے پریس آفس کے مطابق ایک جنگی زون یا میزائل لینڈنگ سائٹ سے کسی بھی نشریات کے لیے فوجی سنسر سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔