اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کو ہندوستان کے حوالے نہ کرنے کا ملیشیاء کو اختیار حاصل ہے۔ وزیراعظم مہاتر

,

   

مہاتر محمد نے ملیشیاء کے میڈیا سے یہ کہاکہ عام طور پر ذاکر نائیک کا یہ احساس ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھ شفاف طریقہ انصاف نہیں مل سکے گا۔

کولالمپور۔وزیر اعظم ملیشیاء مہاتر محمد نے کہاکہ اگر انصاف ملنے کی امید نہ ہونے کی وجہہ سے وہ ہندوستان جانا نہیں چاہتے تو اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کو ہندوستان کے حوالے نہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

مہاتر محمد نے ملیشیاء کے میڈیا سے یہ کہاکہ عام طور پر ذاکر نائیک کا یہ احساس ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھ شفاف طریقہ انصاف نہیں مل سکے گا۔

اسی طرح کے حالات کا سامنا آسڑیلیا کے ساتھ بھی ہوا تھا جب سیرال اظہار عمر‘ سابق باڈی گارڈ کو 2015میں مانگولیائی ماڈل الٹاٹویہ شاریبو کے قتل میں پھانسی کی سزاسنائی جانے کے بعد انہیں ملیشیاء واپس دینے کو کہاگیاتھا۔

انہوں نے کہاکہ ”نے سیرال کو ہمارے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی اور وہ پریشان تھے کہ ہم اس کو پھانسی پر لٹکادیں گے“۔

دی اسٹار کی خبر کے مطابق پیر کے روزملیکا کے جیسین میں لیپاٹ کچگان میں سستی گھروں کی اسکیم کی شروعات کے بعد مہاتر نے کہاکہ ”ذاکر عام احساس ہے کہ ہندوستان میں انہیں انصاف نہیں ملے گا“۔

اب تک انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے ذاکر کے دوقریبی ساتھیوں عامر گذدار اور نجم الدین ساتھک جو گرفتار کیاہے وہیں نائیک فراراو رملیشیاء میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

قومی تحقیقاتی ادارے (این ائی اے) کی جانب سے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت ایف ائی آر درج رجسٹرارڈ کرنے کے بعد نائیک پر ای ڈی نے 2016میں مقدمہ درج کیاتھا۔

ماضی میں این ائی اے نے کہاتھا کہ اسلامی مبلغ”جان بوجھ کر ہندوؤں‘ عیسائیوں اور غیروحابی مسلمانوں بالخصوص شیعہ’صوفی اور بریلویوں جیسے مذاہب ا ور عقائدین کی توہین کرتے ہیں‘ جس کا مقصد ان کے مذہبی جذبات کو ختم کرنے کا ارادہ تھا“۔

اس نے کہاتھا کہ نائیک کی تنظیم‘ ائی آر ایف اور ایم ایس ہارمونی میڈیا”اس طرح کی نقصان پہنچے والی تقریروں منظم انداز میں بڑے پیمانے پر پھیلائی گئی ہیں“۔

دی ویک میگزین کو حالیہ دنوں میں دئے گئے ایک انٹرویو میں نائیک نے کہاکہ انہیں قانونی نظام میں پورا بھروسہ ہے‘ مگر یہ فی الحال سے زیادہ بہتر سابق میں تھا۔

انہوں نے کہاکہ ”بی جے پی حکومت کے اقتدار سے میں آنے سے قبل آپ حکومت کے خلاف بات کرسکتے تھے‘ اور 80فیصد انصاف کی امید تھی۔

آج اس کا موقع 10-20فیصد ہی ہے“۔ انہو ں نے مزیدکہاکہ”اس سے زیادہ 90فیصد سے زائد مسلمانوں کو جن پر دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے تھے 10-15سال بعد بری کردئے گئے۔

اگر میں اس موقع کو دیکھوں تو میں دس سالوں تک جیل میں قید رہوں گا‘ اور میرا سارا مشن متاثر ہوجائے گا۔تو کیوں میں بیوقوف بنوں گا“۔

مذکورہ مبلغ نے کہاکہ اگر وہ چاہتی ہے تو این ائی اے ملیشیاء میں ان سے پوچھ تاچھ کرے۔

جب ان سے پوچھا گیاکہ انصاف کے بھروسہ اگر دیاجائے تو وہ انڈیاواپس لوٹیں گے‘ جس پر نائیک نے کہاکہ”اگر سپریم کورٹ آف انڈیاسے یہ بھروسہ دلایاگیاکہ جب تک ذاکر نائیک خاطی نہیں قراردئے جاتے تب تک انہیں گرفتار نہیں کیاجائے گاتو میں ضرور اؤں گا“۔

ڈھاکہ کے سفارتی علاقے میں گلشن ہولی آرٹسیان بیکری (کیفے) میں دہشت گرد حملے کی جانچ کے بعد تحقیقات کے دوران ان کا نام آنے کے بعد این ائی اے نے مبلغ کے خلاف مقدمہ درج کیا‘ داعش کے دہشت گردی گروپ نے اس حملے کا دعوی کیاتھا۔

یکم جولائی 2016کے روز پیش ائے اس دہشت گرد حملے میں بیس لوگ جس میں زیادہ تر بیرونی باشندے شامل تھے مارے گئے‘ حملوں آوروں نے ہوٹل میں طعام کرنے والوں اور عملے کو محروس کرلیاتھا۔

نائیک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے کے متعلق انہوں نے کبھی ایسا بیان نہیں دیا ہے