مخالف بی جے پی طاقتوں کے اتحاد کی وکالت،کانگریس پارٹی میں نئی بحث چھڑگئی
حیدرآباد۔31۔مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں مفاہمت کے بارے میں اہم اعلان کیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو روکنے کیلئے تمام سیکولر پارٹی متحدہ طور پر کام کریں گی ۔ کانگریس کے قائد راہول گاندھی کی لوک سبھا کی رکنیت کو ختم کرنے کی مذمت کیلئے جانا ریڈی نے پریس کانفرنس طلب کی تھی اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں نے تلنگانہ میں امکانی انتخابی مفاہمت کے بارے میں سوالات کئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کیلئے سیکولر طاقتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ بی آر ایس کے ساتھ کانگریس کی انتخابی مفاہمت کے بارے میں سوال پر جانا ریڈی نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر اس بارے میں فیصلہ عوام کریں گے۔ جانا ریڈی نے اس سلسلہ میں مزید تبصرہ سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی نے ایک سے زائد مرتبہ واضح کردیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔ جانا ریڈی نے نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نریندر مودی حکومت کے خلاف جدوجہد کیلئے عوام کو متحد ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مخالفت کرنے والی تمام سیکولر پارٹیوں کو کانگریس کی تائید کرنی چاہئے ۔ جانا ریڈی سرگرم سیاست سے عملاً دور ہیں اور انہوں نے گاندھی بھون کے بجائے اپنی قیامگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی آر ایس کے ساتھ انتخابی مفاہمت پر تبصرہ کیا ۔ پارٹی حلقوں میں جانا ریڈی کے بیان پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران کے سی آر نے جانا ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی بھی بی آر ایس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے امکانات کو مسترد کرچکے ہیں۔ ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے دوران ریونت ریڈی نے بی جے پی اور بی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس تنہا مقابلہ کرے گی ۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے حال ہی میں پیش قیاسی کی تھی کہ تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میں آئے گی۔ جانا ریڈی کے بیان سے کانگریس پارٹی میں ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔ر