اسمبلی حلقہ چندرائن گٹہ میں 3 نئے آبی ذخائر تعمیر ہوں گے

   

حکومت سے پینے کے پانی کے منصوبوں کے لیے 50 کروڑ روپئے کی انتظامی منظوری
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : پرانے شہر کے عوام کے لیے پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے کی سماعت میں تلنگانہ حکومت نے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا ہے ۔ حکومت نے اسمبلی حلقہ چندرائن گٹہ کے حدود میں پینے کے پانی کے تین نئے جدید آبی ذخائر (ریزر وائرس ) کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ روپئے کی انتظامی منظوری دینے کے لیے باضابطہ احکامات جاری کردئیے ہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے سے چندرائن گٹہ اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں برسوں سے جاری پینے کے پانی کے مسائل کا مستقل حل برآمد ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔ سرکاری احکامات کے مطابق ان نئے ذخائر آب کی تعمیر کے ساتھ ہی مغل کالونی ، کرسٹل ٹاون شپ ، کوہ نور گولڈ اسٹون ، لیک کالونی ، مدینہ کالونی ، گولڈن ہلز اور بنڈلہ گوڑہ کے تحت آنے والے ہنومان ٹمپل ایریا ( کرشنا ریڈی نگر ) سمیت کئی بڑی کالونیوں کے لیے پینے کے پانی کی سپلائی کا ایک جامع اور جدید پائپ لائن سسٹم قائم کیا جائے گا ۔ یہ نئے بلند آبی ذخائر ( اوور ہیڈ ٹینک ) 15 میٹر کی اونچائی پر تعمیر کئے جائیں گے ۔ جن کی مجموعی گنجائش 2.5 ملین ( 25 لاکھ ) لیٹر ہوگی ۔ عوام کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ان تمام ٹینکوں کے ساتھ جدید کلورین چیمبرس بھی بنائے جائیں گے ۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تینوں نئے ذخائر آب بالترتیب لیک ویو ہلز ریزروائر ، بالا پور کیمپس ریزروائر اور کرشنا ریڈی نگر ریزروائر کے ناموں سے تعمیر کئے جائیں گے ۔ جس سے پرانے شہر کی ایک بڑی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی بلا رکاوٹ سپلائی ممکن ہوسکے گی ۔۔ 2/m/b