ناانصافی پر کانگریس قائدین کا دلیرانہ احتجاج، بی آر ایس کے مسلم قائدین خاموش تماشائی
ٹی آر ایس سے بی آر ایس کے 25 سال کے دوران کبھی مسلم قائد کو راجیہ سبھا کا رکن نہیں بنایا گیا
: محمد نعیم وجاہت:
ریاست تلنگانہ میں اسمبلی کے بعد کونسل میں بھی مسلم نمائندگی ختم ہوگئی ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ اس مرتبہ بی آر ایس کو ایم ایل اے کوٹہ میں حاصل ہونے والی واحد نشست پارٹی مسلم قائد کو دیتے ہوئے کونسل میں مسلم نمائندگی کو برقرار رکھے گی لیکن بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے بی سی قائد کو امیدوار بناتے ہوئے مسلمانوں کو نظرانداز کردیا ہے۔ واضح رہے کہ دو میعادوں تک اسمبلی حلقہ بودھن سے عامر شکیل بی آر ایس کے رکن اسمبلی رہے ہیں۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اس کے بعد اسمبلی میں بی آر ایس کی مسلم نمائندگی ختم ہوگئی۔ جاریہ ماہ کے اواخر میں کونسل میں واحد مسلم رکن رہنے والے سابق وزیر محمد محمود علی کی میعاد مکمل ہو رہی ہے۔ بی آر ایس کے مسلم قائدین کو امید تھی کہ پارٹی قیادت ایم ایل اے کوٹہ کے کونسل انتخابات میں کونسل میں مسلم نمائندگی برقرار رکھے گی مگر پارٹی نے مسلم قائد کو ٹکٹ نہیں دیا۔ ماضی میں تلگودیشم سے بی آر ایس میں شامل ہونے والے محمد سلیم کو دوبارہ کونسل کا رکن نہیں بنایا۔ ساتھ ہی کانگریس سے بی آر ایس میں شامل ہونے والے سابق وزیر محمد فرید الدین کو صرف مختصر میعاد کے لئے کونسل کا رکن بنایا جب ان کی میعاد مکمل ہوئی تو انہیں دوبارہ کونسل کا رکن نہیں بنایا گیا اس کے علاوہ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین بی آر ایس میں شامل ہوئے تھے۔ انہیں ایک میعاد کے لئے دوبارہ کونسل کا رکن بنایا جس کے بعد انہیں بھی نظرانداز کردیا گیا۔ اس مرتبہ سابق وزیر محمد محمود علی کی میعاد مکمل ہوئی۔ پارٹی نے انہیں یا کسی دوسرے مسلم قائد کو موقع فراہم نہیں کیا جبکہ 10 سال بعد کانگریس کے چار ارکان ایم ایل اے کوٹہ میں ایم ایل سی کے لئے منتخب ہو رہے ہیں۔ کانگریس نے سماجی انصاف کرنے کا تیقن دلایا تھا مگر ایک نشست سی پی آئی کے لئے چھوڑ دینے کے باعث مسلم قائد کے نام پر غور نہیں کیا گیا لیکن یہ بھی مسلمانوں سے ناانصافی ہے جس کے خلاف کانگریس کے مسلم قائدین نے رات دیر گئے پارٹی کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون پر احتجاج کرتے ہوئے مسلمانوں سے ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھایا ہے۔ یقینا یہ دلیرانہ اقدام ہے۔ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا کانگریس کے مسلم قائدین کا حق ہے۔ یہی نہیں نظام آباد میں بھی کانگریس کے مسلم قائدین نے احتجاج کیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنی بات پارٹی قیادت و ہائی کمان تک پہنچائی۔ یہی نہیں کانگریس کے قائدین چیف منسٹر ریونت ریڈی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ اور دہلی پہنچ کر ہائی کمان سے بھی نمائندگی کی۔ اس طرح کا احتجاج کبھی بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ بی آر ایس کے مسلم قائدین خاموش تماشائی ہی رہے۔ اپنے حقوق کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی جمہوری انداز میں احتجاج کیا اور نہ کبھی پارٹی کے سربراہ سے مشترکہ طور پر کوئی نمائندگی کی گئی۔ ٹی آر ایس سے بی آر ایس تک 25 سالہ دور میں کبھی بھی کسی بھی مسلم قائد کو راجیہ سبھا کا رکن نہیں بنایا گیا۔ 10 سال کے دوران کونسل سے مسلم نمائندگی ختم ہوتی رہی مگر اسکو برقرار رکھنے یا اس میں اضافہ کرنے پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی جبکہ مسلمانوں نے ہر انتخاب میں بی آر ایس کا ساتھ دیا۔ یہاں تک حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی 35 فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے بی آر ایس کو ووٹ دیا ہے۔