اسپائی ویئر سے ایغور مسلمانوں کی ایپس کو نشانہ بنایاگیا

   

بیجنگ : سائبر سیکیورٹی کے محققین نے کہا ہے کہ انہیں ایغور زبان کی ایپس میں چینی اسپائی ویئر کے شواہد ملے ہیں جو مقام کا پتہ لگا سکتے ہیں اور چین اور بیرون ملک مقیم ایغوروں کے ڈیٹا کو حاصل کر سکتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ اویغور اقلیت کے علاقے سنکیانگ میں بیجنگ نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اویغور بنیادی طور پر چین کے شمال مغربی علاقہ سنکیانگ میں ایک ترک مسلم اقلیت ہیں جو چین کی حکومت پر امتیازی سلوک اور نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہیںامریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ چین کا ایغوروں کے ساتھ سلوک نسل کشی کے مترادف ہیسان فرانسسکو میں قائم سائبر سیکیورٹی فرم لک آؤٹ کی جمعرات کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہیکہ 2018 کے بعد سے، متعدد ایغور زبان کی اینڈرائیڈ ایپس چینی ریاست کے حمایت یافتہ ہیکر گروپس سے منسلک سپائی ویئر کے دو اقسام سے متاثر پائی گئی ہیں۔ان ایپس میں لغت، مذہبی ایپس، نقشے اور یہاں تک کہ کے پائریٹڈ ورڑن بھی شامل ہیں جو تھرڈ پارٹی اسٹورز پر دستیاب ہیں یا ٹیلیگرام پر اویغور زبان کے چینلز پر شیئر کیے گئے ہیں۔یہ ایپس سرکاری گوگل پلے سٹور پر دستیاب نہیں کیونکہ چین میں بلاک ہے۔ اسی وجہ سے چینی صارفین تھرڈ پارٹی ایپ سٹورز استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپائی ویئر نے ہیکرز کو حساس ڈیٹا اکٹھا کرنے کے قابل بنایا جس میں صارف کا مقام، رابطے، کال لاگ، ٹیکسٹ میسجز اور فائلیں شامل ہیں، اور وہ تصاویر بھی لے سکتے ہیں اور کالز بھی ریکارڈ کر سکتے ہیںمحققین نے کہا کہ ایپس کا استعمال مذہبی انتہا پسندی یا علیحدگی پسندی کے شواہد کا پتا لگانے کے لیے کیا جا سکتا تھا۔