میڈرڈ / زیورچ : اسپین اور سوٹزر لینڈ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنے شہریوں سے اس ملک کو ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔اسپین وزارت خارجہ نے ، لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد، اپنے انٹرنیٹ صفحے کے “سیاحتی تجاویز” حصّے میں لبنان کے بارے میں تبدیلیاں کی ہیں۔اسپین حکومت نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی شرط میں ہسپانوی شہریوں کو لبنان کی سیاحت کا مشورہ نہیں دیتے۔ اس وقت لبنان میں موجود ہسپانوی شہریوں کو بھی ہمارا مشورہ ہے کہ دستیاب رسل و رسائل کے ذریعے فوری طور پر ملک کو ترک کر دیا جائے۔دوسری طرف اسپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے ملکی ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “لبنان پر اسرائیلی حملے ‘تشویشناک اور ڈرامائی ہیں’ لیکن ہر چیز کے باوجود لبنان میں ڈیوٹی پر موجود ہسپانوی فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں۔سوٹزر لینڈ نے بھی اپنے شہریوں سے لبنان کو ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔سوٹزر لینڈ وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “لبنان کی صورتحال غیر یقینی اور خطرناک ہے۔ اس ملک کی سیرو سیاحت سے پرہیز کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو ملک میں موجود سویس شہری بھی ملک کو ترک کر دیں۔ بیروت میں سوٹزر لینڈ سفارت خانہ محدود تعاون کی خاطر کھْلا رہے گا”۔آذربائیجان کی ‘آذال’ ایئر لائن نے بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر باکو۔ تل ابیب پروازیں بند کر دی ہیں۔آذال کے جاری کردہ بیان کے مطابق تل ابیب کے مسافروں کی ٹکٹیں واپس کی جا سکتی ہیں تاہم ان ٹکٹوں کی گزرگاہ والی پروازوں کے دوبارہ آغاز کا فیصلہ شرائط کو مدّنظر رکھ کر کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کل صبح سے اب تک لبنان میں 1100 اہداف پر فضائی حملے کر چْکی ہے۔ حملوں میں 35 بچوں سمیت 492 افراد ہلاک اور 1645 زخمی ہو چکے ہیں۔اردن نے بھی اپنے شہریوں سے لبنان کو ترک کرنے اور اس ملک کی سیاحت سے پرہیز کرنے کی اپیل کی ہے۔
شہری لبنان سے نکل جائیں
لندن : برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے برطانوی شہریوں کو فوری لبنان چھورنے کی ہدایت کردی۔برطانوی وزیراعظم نے لبنان سے برطانوی شہریوں کو نکالنے کے لئے 700 فوجی قبرص میں تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی ڈیفنس سیکرٹری جان ہیلی کی زیر صدارت کوبرا میٹنگ میں یہ فیصلے کیے گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دو بحری جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں جو انخلا میں مدد کریں گے۔رائل ایئر فورس کے طیارے اور ہیلی کاپٹرز کو بھی تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔