پٹنہ: مجلس اتحاد المسلمین بہار کے ریاستی صدر اور امور سے رکن اسمبلی اخترالایمان نے کہا ہے کہ ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو ہے لیکن پورے بہار میں کہیں بھی اردو نظر نہیں آتی ہے ۔اردو اخبارات کو ہندی میں سرکاری اشتہارات جاتے ہیں ۔دفتروں سے اردو کے سائن بورڈ غائب ہو چکے ہیں ۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ بہار میں اردو کے فروغ کے دو اہم ادارے اردو اکادمی اور اردو مشاورتی کمیٹی کو تقریبا پانچ سال سے نتیش حکومت نے معطل کر رکھا ہے ۔جب کہ دوسری کمیٹیاں بن گئی ہیں ۔پورے بہار میں اردو کی تعلیم کا صحیح نظم کہیں نہیں ہے ۔70 ہزار پرائمری اسکولوں میں سے آدھے سے زیادہ اسکولوں میں اردو اساتذہ نہیں ہیں ۔جس کے سبب اردو آبادی کے بچے اپنی مادری زبان کی تعلیم سے محروم ہیں۔ میٹرک تک اردو کی تدریس کا معاملہ بھی 15 جولائی 2020 کو ایک نوٹیفیکیشن نکال کے غیر یقینی بنا دیا ہے گزشتہ تین برسوں کی لگاتار کوششوں کے بعد بھی محکمہ تعلیم نے ابھی تک اس کو سرد خانے میں ڈال رکھا ہے ۔