اسی زمین پہ ظالم تھے تم سے پہلے بھی

   

مودی ، نتن یاہو… گودھرا کی غزہ سے ملاقات
ہندوستان میں نفرت کے بیج درخت بن گئے

رشیدالدین
مودی نریندر یا سرینڈر ؟ مودی کے دورہ اسرائیل سے ثابت ہوگیا کہ راہول گاندھی ’’مودی سرینڈر‘‘ کا جو دعویٰ کر رہے ہیں، وہ محض الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ ٹرمپ کی ہدایت پر شائد یہ دورہ کیا گیا جس میں وزیراعظم نے ہندوستان کی روایتی خارجہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے بنجامن نتن یاہو کے آگے سرینڈر کردیا۔ اسرائیل میں قیام کے دوران دو دنوں تک مودی کافی بحال اور خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی والہانہ وابستگی اور اسرائیلی قیادت سے محبت کے اظہار کیلئے وہ ’’وارے جاؤں پھیرے جاؤں‘‘ کے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے ۔ بیرونی حکمرانوں کے گلے پڑجانا مودی کی عادت ہے لیکن نتن یاہو کے معاملہ میں وہ حد سے کچھ زیادہ ہی تجاوز کرنے لگے اور ایک لمحہ کیلئے نتن یاہو کو بھی ناگوار گزرا۔ نریندر مودی کا جب نتن یاہو کی اہلیہ سارا سے سامنا ہوا تو مودی حسب عادت گلے ملتے ملتے کسی طرح رک گئے اور کافی دیر تک سارا کا ہاتھ نہیں چھوڑا جیسے کہ وہ اسرائیل کی وزیراعظم ہیں۔ مودی کو خوش کرنے اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ بھگوا رنگ کے لباس میں تھیں اور مودی کے واسکوٹ کی جیب میں رومال بھی بھگوا رنگ کا تھا۔ اسرائیلی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مودی کو کس طرح پھنسایا جاسکتا ہے۔ بھگوا رنگ مودی کی کمزوری ہے اور سارا نتن یاہوکو بھگوا لباس میں دیکھ کر وہ بے قابو ہوگئے۔ نریندر مودی کی آمد پر نتن یاہو نے جس انداز میں استقبال کیا، اس پر ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کچھ یوں تبصرہ کیا کہ اگر کسی آبادی میں ایک گھر ایسا ہے جہاں کسی مہمان کا تصور نہیں ہے اور سارا علاقہ اس گھر کا بائیکاٹ کرتا ہے ، اگر وہاں کوئی مہمان آجائے تو خوشی منانا فطری رہے گا۔ کچھ یہی حال اسرائیل کا ہے جس کی مخالف فلسطین پالیسی سے دنیا برہم ہے لیکن نریندر مودی اسرائیل پہنچ کر تائید کا اعلان کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے مودی کو اسرائیل اس لئے بھیجا تاکہ ایران پر حملہ کی تائید حاصل کی جائے۔ امریکہ سے ٹریڈ ڈیل کے ذریعہ نریندر مودی نے ملک کے مفادات پر جو سمجھوتہ کیا ہے ، وہ کسی سرینڈر سے کم نہیں ہے۔ اسرائیل پہنچ کر مودی نے نتن یاہو کے ساتھ جس جذباتی انداز میں بغلگیر ہونے کی کوشش کی ، ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے یہ دونوں کسی میلے میں بچھڑے ہوئے بھائی ہیں جن کی کئی برس بعد ملاقات ہوئی ہے۔ مودی نے ہندوستان کی روایتی خارجہ پالیسی سے انحراف کیا جو ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت میں رہی ہے۔ مودی نے اٹل بہاری واجپائی کے اس موقف کو بھلادیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل نے اربوں کی جس زمین پر قبضہ کیا ہے ، اسے خالی کرنا ہوگا۔ مودی اور نتن یاہو میں قربت کی ایک اہم وجہ دونوں کی یکساں خصوصیات اور کارنامے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی اور نتن یاہو کی ملاقات کو میڈیا نے گودھرا کی غزہ سے ملاقات قرار دیا ہے۔ ’’کبوتر با کبوتر، باز با باز‘‘ کے مصداق ایک ہی خصلت کے لوگ آپس میں جگری دوست ہوتے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے نتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کیا ہے۔ نتن یاہو یوروپی ممالک میں قدم نہیں رکھ سکتے کیونکہ انہیں گرفتاری کا خطرہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح نریندر مودی کو گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کا تجربہ ہے جس کا آغاز گودھرا سے ہوا تھا۔ امریکہ نے گجرات فسادات کے بعد مودی کو ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس طرح امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ مسلمانوں کی نسل کشی کا مودی اور نتن یاہو کو خوب تجربہ ہے اور دونوں ہمیشہ مظالم کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی دشمنی میں مودی اندھے ہوچکے ہیں اور انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہودی کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ برا وقت آنے پر وہ منہ پھیر لیتے ہیں ، ویسے بھی نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں کا سبق نتن یاہو سے سیکھا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران مودی نے اسرائیل پر حماس کے حملہ کی مذمت کی لیکن غزہ میں اسرائیلی بربریت اور بمباری میں 70 ہزار بے قصور فلسطینیوں کی ہلاکت پر خاموش رہے ۔ مودی کو غزہ کے ان معصوم بچوں کا خیال نہیں آیا جن کے سینے میں گولیاں ماری گئیں اور ہزاروں بچوں کی موت فاقہ کشی اور ادویات نہ ملنے سے ہوئی ۔ مکانات کو کھنڈر میں تبدیل کرتے ہوئے ظلم و بربریت کی نئی تاریخ ر قم کرنے والے وار کریمنل نتن یاہو کو دوست اور بھائی قرار دے کر مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا گیا ۔ فلسطینیوں کی ہلاکت پر مودی کو دکھ اور غم کا احساس کیونکر ہوگا جبکہ وہ خود گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کی ہلاکت کا بالواسطہ ذریعہ رہے ہیں۔ مودی نے گجرات فسادات کے مہلوکین پر دکھ کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا کہ اگر گاڑی کے نیچے کتے کا بچہ آجائے تو اس کی موت پر دکھ ہوتا ہے ۔ جس شخص کے پاس مسلمانوں کی حیثیت کتے کے بچے کے برابر ہے تو پھر نتن یاہو سے ان کی قربت پر شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ مودی نے اسرائیل کو’’ فادر لینڈ ‘‘ اور ہندوستان کو ’’مدر لینڈ ‘‘ سے تعبیر کیا ۔ سول یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی کے والد کا تعلق اسرائیل سے تھا کہ وہ اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اسرائیل سے وابستگی کے اظہار کے لئے انکشاف کیا کہ جس دن ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا (17 ستمبر 1950 )اسی دن ان کی پیدائش ہوئی ہے ۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی شخصیت پر تاریخ پیدائش کا بھی اثر ہوتا ہے ۔ اسرائیل کی تمام خصوصیات نریندر مودی میں پیدائش سے ہی سرائیت کرگئیں۔کاش نریندر مودی اسرائیل میں پیدا ہوئے ہوتے تاکہ ہندوستان کو نجات ملتی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں مودی نے کہا کہ عام شہریوں کو ہلاک کرنے اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حماس کے حملہ میں مرنے والے اسرائیلی مودی کو عام شہری دکھائی دے رہے ہیں لیکن غزہ میں اسرائیلی بمباری اور گولیوں کا نشانہ بنے والے 70 ہز ار افراد مودی کی نظر میں شائد عام شہری نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔ اسرائیل کے دورہ پر خوشیاں منانے والے نریندر مودی اور ان کے حواری پارلیمنٹ میں بے عزتی کو بھول رہے ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن نے مودی کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ مودی کو اسرائیلی پارلیمنٹ کا ایک ایسا ایوارڈ پیش کیا گیا جو پہلی بار صرف مودی کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ اسرائیل میں دو سیویلین اعزاز موجود ہیں لیکن نتن یاہو نے سیویلین اعزاز کے بجائے گلہ ٹالو انداز میں ایک ایسا ایوارڈ دے کر خوش کردیا جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ فلسطینی اتھاریٹی نے 2018 میں نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سیویلین اعزاز سے نوازا تھا لیکن نریندر مودی نے فلسطینیوں کی ہندوستان سے محبت کو بھلا کر اسرائیل کو محض اس لئے اختیار کیا کیونکہ دونوں حکمرانوں کی عادات میں یکسانیت ہے۔ مودی نے اسرائیل کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے عرب اور مسلم ممالک سے دیرینہ روابط کو عملاً ختم کردیا ہے ۔ عرب اور مسلم ممالک میں برسر روزگار لاکھوں ہندوستانیوں کے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر مودی نے امریکی دباؤ کو قبول کرلیا۔ ہندوستان میں بیرونی زر مبادلہ کا اہم ذریعہ عرب اور مسلم ممالک ہیں۔ اسرائیل سے قربت کے نتیجہ میں عرب اور مسلم ممالک میں ہندوستانیوں پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ اگر وہاں کی حکومتیں کوئی فیصلہ کریں تو اس کیلئے کون ذمہ دار ہوں گے۔ ویسے بھی عرب اور مسلم ممالک کے سربراہان کی اکثریت بے حسی کا شکار ہے اور امریکہ کی اجازت کے بغیر ہندوستان کے خلاف کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں ۔ نریندر مودی نے مسلم ممالک سے تعلقات مستحکم کرنے کیلئے ارکان پارلیمنٹ کے وفود روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ 10 برسوں میں مودی حکومت نے ملک میں زہر اور نفرت کا جو بیج بویا تھا ، وہ آج ایک درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں مختلف ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور نفرتی عناصر کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہوئے ویڈیو تیار کرتے ہیں اور اسے وائرل کیا جاتا ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نفرتی عناصر کے خلاف کارروائی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ گزشتہ دنوں اترپردیش بدایوں میں اکشئے سنگھ نامی ایک غنڈہ نے تین مسلمانوں کی بے دردی سے پٹائی کردی اور ویڈیو کو وائرل کردیا تاکہ مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کیا جائے۔ 11 برسوں میں اکثریتی فرقہ میں مسلمانوں کے خلاف جو زہر بھرا گیا ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گمراہ نوجوان روزانہ کسی نہ کسی علاقہ میں مسلمانوں پر ظلم کو اپنی بہادری تصور کر رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں اروند شرما نامی شخص نے ایک مسلمان مزدور شاہد پر محض اس لئے حملہ کردیا کہ وہ کھلے مقام پر نماز ادا کر رہا تھا۔ مندر کی زمین کا دعویٰ کرتے ہوئے شاہد کو بری طرح مار پیٹ کی گئی اور ویڈیو وائرل کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں راجستھان میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جون پوریا کا ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں وہ غریبوں میں بلانکٹس تقسیم کر رہے ہیں ۔ جیسے ہی ان کی نظر مسلم خواتین پر پڑی ، انہوں نے جھڑک کر نکال دیا اور جن مسلم خواتین کو بلانکٹس دیئے گئے تھے ، ان سے واپس لے لیا گیا ۔ سکھبیر سنگھ کو اپنے اس عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ یہ واقعات تو محض وہ ہیں جو منظر عام پر آئیں جبکہ کئی ایسے واقعات کا عوام کو علم نہیں ہوتا۔ندیم شاد نے کیا خوب کہا ہے ؎
اسی زمین پہ ظالم تھے تم سے پہلے بھی
اسی زمین کے اندر کہیں پڑے ہوں گے