اعظم خان کو پانچ سال پرانی شکایت پر محکمۂ انکم ٹیکس کا نوٹس

   

اثر رسوخ کے ذریعہ جائیدادیں حاصل کرنے کا الزام‘ آج سماعت
لکھنؤ۔21؍جون ( ایجنسیز)سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خان کے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو محکمۂ انکم ٹیکس، لکھنؤ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے جس کی سماعت 23 جون کو ہوگی۔ یہ کارروائی بی جے پی کے رکنِ اسمبلی آکاش سکسینہ کی جانب سے 2021 میں کی گئی شکایت کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔ یہ معاملہ مارچ 2021 کا ہے جب رام پور سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی آکاش سکسینہ نے مرکزی وزیرِ داخلہ کے ذریعے مرکزی بورڈ برائے براہِ راست ٹیکس سے جوہر ٹرسٹ کے خلاف تحریری شکایت کی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اعظم خان نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور لوگوں کو خوفزدہ کرکے بڑی جائیدادیں حاصل کیں اور بعد ازاں انہیں یونیورسٹی کی تعمیر میں استعمال کیا۔ شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ جوہر یونیورسٹی میں تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ عطیہ دینے والوں میں بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے 60‘60 کروڑ روپے تک چندہ دیا لیکن دستاویزات کے مطابق وہ خود انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ میں اعظم خان کے اہلِ خانہ کو عہدے دار اور رکن بنانے پر اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔یہ کارروائی اچانک نہیں ہوئی۔ اس سے قبل ستمبر 2023 میں بھی محکمۂ انکم ٹیکس کی ٹیمیں رام پور پہنچ کر کئی دنوں تک جانچ پڑتال کر چکی تھیں۔