اقتدار کی تبدیلی میں سب کی نمائندگی نہیں ہوئی ۔ ایس سی او کو دہشت گردی و کٹر پسندی کیخلاف مساوی حکمت عملی بنانا چاہئے
چوٹی اجلاس سے وزیراعظم کا خطاب
دوشامبے ؍ نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے افغانستان میں انسانی بحران پر آج تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ جنگ زدہ ملک میں پیش آئے واقعات پر ہندوستان فکرمند ہے۔ ایس سی او ۔ سی ایس ٹی او چوٹی اجلاس برائے افغانستان کوویڈ وباء کے سبب آن لائن منعقد کیا گیا۔ اِس اجلاس سے خطاب میں مودی نے اُن معاشی اور انسانی مشکلات کو اُجاگر کیا جن کا افغانستان کے عوام کو حالیہ تبدیلیوں کے سبب سامنا ہے۔ اُنھوں نے طالبان کنٹرول کے تعلق سے کہاکہ اُس ملک میں اقتدار کی حالیہ تبدیلی میں قوم کے تمام گوشوں کی نمائندگی نہیں ہے اور یہ بات چیت کے بغیر عمل میں لائی گئی ہے۔ ہندوستان نے شنگھائی کوآپریشن تنظیم (ایس سی او) سے آج اپیل کی کہ وہ مغربی ایشیا میں بڑھتی دہشت گردی اور مذہبی کٹر پسندی سے مقابلہ کے لئے اسی طرح کی حکمت عملی بنائے جو نہ صرف علاقائی سلامتی کے لئے ضروری ہے بلکہ نئی نسل کے روشن مستقبل کے لئے بھی اہم ہے۔ وزیراعظم مودی نے ایس سی او کی21ویں چوٹی کانفرنس کے اہم سیشن کو ویڈیو لنک کے ذریعہ نئی دہلی سے خطا ب میں تنظیم کی 20ویں سالگرہ پر تمام اراکین کو مبارکباد دی اور تنظیم میں نئے رکن کے طورپر شامل ہوئے ایران اور سعودی عرب، مصراور قطر کو مذاکرات کے شراکت داروں کے طورپر شامل ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے ایس سی او مزید مضبوط اور قابل اعتماد بنے گی۔ ان کا خیال ہے کہ اس خطہ میں سب سے بڑا چیلنج امن، سلامتی اور باہمی اعتماد کے بحران سے متعلق ہیں اور ان مسائل کو اصل وجہ بڑھتی ہوئی مذہبی سخت گیری ہے ۔ افعانستان میں حالیہ واقعات نے اس چیلنج کو مزید واضح کردیا ہے ۔ اس معاملہ پر ایس سی او کو پہل کرکے کام کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ وسطی ایشیا کا خطہ لبرل اور ترقی پسند ثقافتوں اور اقتدار کا گڑھ رہا ہے ۔صوفی ازم جیسی روایتیں یہاں صدیوں سے پھل پھول رہی ہیں اور پورے خطے اور دنیا میں پھیلیں۔ان کی شبیہہ ہم آج بھی اس خطہ کی ثقافتی وراثت میں دیکھ سکتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے اس تاریخی ورثہ کی بنیاد پر ایس سی او کو مغربی ایشیا میں انتہا پسندی اور مذہبی بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی چاہئے ۔ مودی نے کہاکہ ہندوستان سمیت ایس سی او کے تقریباً تمام ممالک میں اسلام سے وابستہ لبرل، روادار اور جامع ادارے اور روایات ہیں۔ایس سی او کو ان کے مابین ایک مضبوط نیٹورک تیار کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے ۔انہوں نے اس سلسلہ میں ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی کے نظام کی طرف سے کئے جانے والے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے ایس سی او کے تمام اراکین ممالک سے ہندوستانی صدارتی دور کے دوران تجویز کردہ سرگرمیوں کے کیلنڈر کو حمایت اور تعاون کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مذہبی سخت گیری کے خلاف لڑائی نہ صرف علاقائی سلامتی اورباہمی اعتماد کے لئے اہم ہے بلکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے بھی بہت اہم ہے ۔سخت گیری میں اضافہ اور عدم تحفظ کی وجہ سے خطہ کی وسیع اقتصادی صلاحیت کا استعمال نہیں کیا جاسکا۔