اسکولس گلابی رنگ میں تبدیل، فنڈس کا بیجا استعمال ، اقلیتی اسکولوں کے عہدیداروں پر ناراضگی، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے رپورٹ طلب کی
حیدرآباد ۔25۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے مختلف طبقات کے لئے قائم کردہ اقامتی اسکولس اور کالجس کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ سابق حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات کے لئے اقامتی اسکولس قائم کئے تھے جنہیں بعد میں جونیئر کالجس میں اپ گریڈ کیا گیا۔ اقامتی اسکولوں کے انتظامات کی نگرانی کیلئے علحدہ سوسائٹیز تشکیل دی گئی تھی اور ہر سوسائٹی کے صدرنشین اور سکریٹری کے طور پر ریٹائرڈ یا موجودہ عہدیداروں کا تقرر کیا گیا ۔ گزشتہ 9 برسوں کے دوران اقامتی اسکولوں کو عملاً بی آر ایس کے اسکولوں میں تبدیل کرتے ہوئے اسکولوں کو گلابی رنگ سے رنگ دیا گیا تھا۔ اسکولوں کی عمارتوں پر برسر اقتدار پارٹی کے رنگ کے علاوہ کلاسس اور ہاسٹلس کے رومس میں بھی کے سی آر کی تصویر آویزاں کی گئی تھی۔ کانگریس حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ اقامتی اسکولوں کو بی آر ایس کے تشہیری مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی جانچ کی جائے۔ اقامتی اسکولوں میں طلبہ کی حقیقی تعداد اور اسکولوں پر ہونے والے خرچ سے متعلق تفصیلات متعلقہ محکمہ جات سے طلب کی گئی ہے۔ حکومت کو اس بات کی شکایت ملی ہے کہ اسکول سوسائٹیز کی جانب سے سرکاری فنڈس کا بے جا استعمال کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اقامتی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بتدریج گھٹنے لگی ہے ۔ معیاری تعلیم کی فراہمی کے دعوے کے باوجود دیگر سہولتوں کی کمی کے نتیجہ میں والدین بچوں کو اقامتی اسکول بھیجنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سرکاری فنڈس کے بے جا استعمال کے علاوہ بڑی تعداد میں آؤٹ سورسنگ اسٹاف کے تقرر سے بھی سرکاری خزانہ پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ تمام طبقات کے اقامتی اسکولوں کو سوسائٹیز کے بجائے راست حکومت کے کنٹرول میں لیا جائے اور تمام اسکولوں کی نگرانی اور انصرام کیلئے سینئر آئی اے ایس عہدیدار کا تقرر کیا جائے ۔ اقامتی اسکولوں کو محکمہ تعلیم کے تحت ضم کرنے سے نہ صرف نگرانی میں اضافہ ہوگا بلکہ سوسائٹی میں شامل افراد میں جواب دہی کا احساس پیدا ہوگا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سکریٹری شاہنواز قاسم جو کئی برسوں تک ڈائرکٹر ا قلیتی بہبود کے طور پر اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھ چکے ہیں، وہ چیف منسٹر کو تفصیلات سے واقف کراچکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں اقلیتی اقامتی اسکولس کے انتظامات کے سلسلہ میں کئی اسکامس منظر عام پر آچکے ہیں جس میں سوسائٹی کے عہدیداروں کے علاوہ بیرونی افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ سوسائٹی کے عہدیداروں سے ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں کرسمس تقاریب میں ایک بھی سوسائٹی کے عہدیدار کو ذمہ داری نہیں دی گئی ۔ سابق میں سوسائٹی کے سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کو اہم ذمہ داریاں دی جاتی تھی ، اس مرتبہ چیف منسٹر آفس نے واضح طور پر ہدایت دیتے ہوئے سوسائٹی کے عہدیداروں کے نام انتظامات سے خارج کردیئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اہم عہدیداروں کو کرسمس تقاریب کا دعوت نامہ بھی نہیں دیا گیا۔ 204 اقامتی اسکولس اور جونیئر کالجس میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کے زیر تعلیم ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن حقیقی تعداد کچھ اور ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اقامتی اسکولوں کے معیار کی برقراری اور فنڈس کے بے جا استعمال کو روکنے کیلئے تمام طبقات کے اسکولوں کو راست حکومت کی نگرانی میں لینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر عہدیدار اس سلسلہ میں رپورٹ تیار کرر ہے ہیں تاکہ محکمہ تعلیم کے کس شعبہ سے اقامتی اسکولوں کو مربوط کیا جائے۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی اقامتی اسکولوں میں ہنگامی طور پر سابق چیف منسٹر کے سی آر کی تصاویر کو ہٹادیا گیا اور کلاس رومس اور دیگر دفاتر میں موجود گلابی رنگ کو سفید میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اسکولس اور کالجس کے پرنسپلس کی کرسیوں پر گلابی توال لازمی قرار دی گئی تھی جسے اب ہٹادیا گیا ہے ۔ ر