اقلیتوں کے تئیں کانگریس حکومت کی کارکردگی مایوس کن

   

تاحال بجٹ کا صرف 24 فیصد ہی خرچ کیا گیا، شیخ عبداللہ سہیل
حیدرآباد ۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) سینئر بی آر ایس قائد شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کردیا ہے اور اس کے مائناریٹیز ڈیکلریشن میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کیلئے سب پلان اور بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پر بھی حکومت پر تنقید کی۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ’’اقلیتوں کیلئے بجٹ میں 4000 کروڑ روپئے تک اضافہ کرنے کے وعدہ کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے کے باوجود کانگریس حکومت نے 2004-25ء کیلئے صرف 3,003 کروڑ روپئے مختص کئے اور اب تک 750 کروڑ روپئے سے کم خرچ کئے۔ یہ قیام تلنگانہ کے بعد سب سے کم خرچ ہے۔ کانگریس حکومت نے ان کے خالی وعدوں سے اقلیتوں کو دھوکہ دیا ہے‘‘۔ بی آر ایس قائد نے کہا کہ اقتدار کے 10 ماہ بعد بھی کانگریس کے مائناریٹیز ڈیکلریشن کو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2024-25ء کیلئے مختص 3,003 کروڑ روپئے کا اب تک صرف 24 فیصد ہی خرچ کیا گیا۔ شادی مبارک اسکیم کو اس کیلئے مختص 650 کروڑ روپئے میں صرف 215 کروڑ ہی موصول ہوئے ہیں جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ نے 120 کروڑ روپئے بجٹ سے صرف 51.56 کروڑ روپئے کا ہی استعمال کیا ہے۔ دیگر فلاحی اسکیمات جیسے بینک سے مربوط سبسیڈیز اور ٹریننگ پروگرامس غیرکارکرد ہیں۔ عبداللہ سہیل نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر جو اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھتے ہیں، زور دیا کہ اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اقلیتوں کے ووٹ سے اسے اقتدار حاصل ہوا ہے لیکن اقلیتوں کے تئیں کانگریس حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔