اقلیتوں کے مسائل پر تنظیم انصاف کا چلو سکریٹریٹ احتجاج

   

عزیز پاشاہ اور دیگر قائدین کی شرکت، وزیر اقلیتی بہبودکو یادداشت
حیدرآباد ۔2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو درپیش مسائل پر سی پی آئی کی آل انڈیا تنظیم انصاف کی جانب سے آج تلنگانہ سکریٹریٹ تک احتجاجی مارچ کیا گیا اور حکومت کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کیا گیا۔ قومی صدر تنظیم انصاف کے سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ کے علاوہ تنظیم انصاف کے ریاستی صدر منیر پٹیل اور جنرل سکریٹری محمد فیاض نے احتجاج کی قیادت کی۔ احتجاجیوں میں چلو سکریٹریٹ پروگرام کے تحت مسلمانوں کے مسائل کے حق میں نعرہ بازی کی۔ کانگریس نے اسمبلی انتخابات سے قبل اقلیتوں سے جو وعدے کئے تھے ، ان کی تکمیل کا مطالبہ کیا گیا۔ کابینی اجلاس کے باعث وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین کے دفتر میں یادداشت حوالے کی گئی۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ میں مسلمان آبادی کا 12.68 فیصد ہیں اور وہ کئی ایک مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ ان میں 81 فیصد مختلف پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت نے مالیاتی سال 2026-27 کے 3.24 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 3769 کروڑ مختص کئے ہیں۔ قائدین نے کہا کہ نصف بجٹ بھی ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اقلیتی اسکیمات کیلئے مختص کردہ بجٹ کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ تعلیمی اسکیمات میں اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات جاری نہیں کئے گئے ۔ ہاؤزنگ اور دیگر اسکیمات میں مسلمانوں کو مناسب حصہ داری کا مطالبہ کیا گیا۔ تنظیم انصاف کے قائدین نے کہا کہ حیدرآباد میں یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 97000 کم عمر لڑکے اور لڑکیاں چائلڈ لیبر کی طرح کام کر رہے ہیں۔ دیگر بڑے شہروں کی طرح چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے حکومت کو بازآبادکاری اسکیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ بچوں کو سرکاری اسکولوں سے جوڑنے کیلئے ان کے خاندانوںکی مالی مدد کی جائے۔ تنظیم انصاف کے قائدین نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور خاص طور پر رائے درگ میں 1510 ایکر اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ 1/k